پاکستان ٹیم کی واپسی: ورلڈکپ کے لیے حتمی انتخاب چند روز میں متوقع
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سری لنکا کے دورے کے اختتام پر پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم آج وطن واپس پہنچ رہی ہے جب کہ ہیڈ کوچ مائیک ہیسن سمیت غیر ملکی کوچنگ اسٹاف بھی لاہور آئے گا۔
ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ٹیم کی واپسی کے فوراً بعد ورلڈکپ کے لیے حتمی 15 رکنی اسکواڈ کے اعلان کا عمل مکمل کر لیا جائے گا، جس کا اعلان ایک یا دو روز میں متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کپتان سلمان آغا اور ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کی باہمی مشاورت سے اسکواڈ کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، جس میں حالیہ کارکردگی، فٹنس اور ٹیم کمبی نیشن کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں عبدالصمد، وسیم جونیئر اور خواجہ نافع کے لیے 15 رکنی اسکواڈ میں جگہ بنانا مشکل دکھائی دے رہا ہے، تاہم ان کھلاڑیوں کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق دورۂ سری لنکا کے دوران جن کرکٹرز کو ڈراپ کیا گیا تھا، انہیں ریزرو فہرست میں شامل کیا جائے گا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متبادل دستیاب ہوں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ورلڈکپ جیسے بڑے ایونٹ میں کسی بھی قسم کے رسک سے بچنے کے لیے متوازن اور تجربہ کار اسکواڈ ناگزیر ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ورلڈکپ اسکواڈ کے اعلان سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ محسن نقوی کی منظوری لی جائے گی، جس کے بعد باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ پی سی بی کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ٹیم کے انتخاب میں کسی دباؤ یا سفارش کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا اور فیصلہ مکمل طور پر میرٹ پر ہوگا۔
میگا ایونٹ کی تیاریوں کے سلسلے میں 15 جنوری سے تربیتی کیمپ لگانے کی بھی تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں، جہاں منتخب کھلاڑیوں کو فزیکل فٹنس، میچ فٹنس اور حکمتِ عملی کے حوالے سے خصوصی سیشنز دیے جائیں گے۔ کوچنگ اسٹاف کی توجہ بیٹنگ کے استحکام، بولنگ میں تنوع اور فیلڈنگ کے معیار کو بہتر بنانے پر مرکوز رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔