صدر آصف زرداری کل بحرین کے دورے پر روانہ ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
صدر مملکت آصف علی زرداری 13 سے 16 جنوری 2026 تک مملکتِ بحرین کا سرکاری دورہ کریں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دورے میں صدر مملکت کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی ہوگا۔ اس دوران صدر آصف زرداری بحرین کے فرمانروا حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے ملاقات کریں گے۔ اس کے علاوہ ان کی ولی عہد و وزیر اعظم بحرین شہزادہ سلمان بن حمد آل خلیفہ سے بھی ملاقات متوقع ہے۔
دورے کے دوران ہونے والی ملاقاتوں میں دوطرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جن میں باہمی دلچسپی کے موضوعات شامل ہوں گے۔
یہ دورہ پاکستان اور برادر خلیجی ملک بحرین کے درمیان طویل عرصے سے قائم تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ تجارت و اقتصادی شراکت داری، دفاع و سلامتی اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کے مواقع کو وسعت دینے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔