کراچی: ڈکیتی کی 100 سے زائد وارداتوں میں ملوث 2 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
شہر کراچی میں اے وی ایل سی پولیس نے سنئیر اینٹی لفٹنگ سیل کی کارروائی کے دوران دو مشتبہ ملزمان کو گرفتار کر کے متعدد چوری شدہ اشیاء برآمد کی ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گرفتار ملزمان صدام حسین ولد کریم بخش اور تابش ولد غلام منگھوپیر کے رہائشی ہیں اور وہ شہر میں پچھلے چار برسوں سے موٹر سائیکل چوری اور موبائل فون چھیننے کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان نے اب تک تقریباً 80 سے 90 قیمتی موبائل فون چھینے اور دو درجن سے زائد موٹر سائیکلیں چوری کی ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ ان کے قبضے سے دو موٹر سائیکلیں، ایک آئی فون اور ایک انفینکس موبائل فون برآمد ہوئے، جن میں سے ایک موٹر سائیکل تھانہ زمان ٹاؤن اور دوسری تھانہ فیروز آباد کے علاقوں سے چوری شدہ تھی۔ موبائل فونز بھی واردات کے دوران منگھوپیر کے مختلف علاقوں سے چھینے گئے تھے۔
ای وی ایل سی پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان چوری شدہ موٹر سائیکلیں اور چھینے گئے موبائل فونز بلوچستان کے علاقے حب میں فروخت کیا کرتے تھے، جس سے شہر میں ہونے والی وارداتوں کی مالیت میں اضافہ ہوتا رہا۔
پولیس حکام نے مزید بتایا کہ دوران تفتیش ملزمان نے اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ کئی سنگین وارداتوں میں ملوث ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور اس کے ساتھ دیگر متعلقہ افراد کی گرفتاری کے امکانات بھی ہیں، تاکہ اس نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
پولیس کی اس کامیاب کارروائی سے شہر میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائم اور چوری کی وارداتوں کے خلاف سخت پیغام دیا گیا ہے کہ کوئی بھی مجرمانہ سرگرمی بے جا نہیں رہ سکتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: موبائل فون
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔