مشہور گلوکار پر خاتون کے الزامات کے بعد 16 ملین ڈالر کا مقدمہ دائر
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
عالمی شہرت یافتہ لاطینی گلوکار بیڈ بنی ایک بڑے قانونی تنازع کی زد میں آگئے ہیں۔
گلوکار پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی موسیقی میں ایک خاتون کی آواز اس کی اجازت کے بغیر استعمال کی، جس پر ان کے خلاف 16 ملین ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کردیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 31 سالہ بیڈ بنی کے خلاف یہ مقدمہ ان کے مقبول گانے ’’Solo de Mí‘‘ (ریلیز 2018) اور حالیہ گانے ’’EoO‘‘ (ریلیز 2025) میں وائس ریکارڈنگ کے استعمال پر دائر کیا گیا ہے۔
رولنگ اسٹون اور بِل بورڈ کے مطابق یہ کیس 5 جنوری 2026 کو پورٹو ریکو میں بیڈ بنی، ان کے پروڈیوسر لا پاسیئنسیا (روبرٹو روسادو) اور میوزک لیبل رِماس انٹرٹینمنٹ کے خلاف درج کیا گیا۔
مقدمہ دائر کرنے والی خاتون، ٹینالی وائی سیرانو رویرا کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنی آواز کی ایک ریکارڈنگ بیڈ بنی کے پروڈیوسر کو بطور ذاتی احسان بھیجی تھی، جو بعد میں تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرلی گئی۔ ان کے مطابق یہ واقعہ 2018 کا ہے، جب وہ اور پروڈیوسر ایک ہی کلاس کے ساتھی تھے۔
ٹینالی سیرانو کا کہنا ہے کہ انہیں اس وائس ریکارڈنگ کے عوض کبھی کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا، اسی بنیاد پر انہوں نے 16 ملین ڈالر ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ان کی اجازت کے بغیر آواز کا استعمال قانونی اور اخلاقی طور پر غلط ہے۔
رپورٹس کے مطابق بیڈ بنی اور ان کا میوزک لیبل مئی 2026 میں عدالت میں الزامات کا باضابطہ جواب جمع کرائیں گے۔ واضح رہے کہ دونوں متنازع گانے ریلیز کے وقت زبردست کامیابی حاصل کر چکے ہیں، جنہوں نے نہ صرف شائقین میں مقبولیت حاصل کی بلکہ میوزک چارٹس پر بھی نمایاں پوزیشنز حاصل کیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق ہے کہ ان بیڈ بنی
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔