پاکستان میں نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے کی تیاریاں مکمل، حتمی منظوری کا انتظار
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
اسلام آباد: پاکستان میں نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں تاہم حتمی ڈیزائن کی منظوری کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو وفاقی حکومت کی اجازت کا انتظار ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کا کہنا ہے کہ نئی کرنسی جدید اور مؤثر سکیورٹی فیچرز سے مزین ہوگی، تاحال نوٹوں کے حتمی ڈیزائن موصول نہیں ہوئے،منظوری ملنے کے بعد نئی کرنسی کی چھپائی میں کم از کم دو ماہ کا وقت درکار ہوگا جبکہ اس مقصد کے لیے جدید مشینری پہلے سے موجود ہے۔
سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے سینئر منیجر پرنٹنگ عامر شمس نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک اور سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے درمیان نئی کرنسی کی چھپائی کے حوالے سے مشاورت مکمل ہو چکی ہے،یہ فیصلہ ابھی زیر غور ہے کہ نئے کرنسی نوٹ مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے یا تمام مالیتوں کے نوٹ ایک ساتھ متعارف کرائے جائیں گے۔
عامر شمس کا کہنا تھا کہ امکان ہے اسٹیٹ بینک رواں سال نئی کرنسی کی چھپائی کے لیے باضابطہ ٹائم لائن جاری کرے گا، نئے ڈیزائن والے کرنسی نوٹوں کی چھپائی کا باضابطہ آرڈر وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ہی دیا جائے گا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن شارٹ لسٹ کر کے حکومت کو ارسال کر دیے گئے ہیں اور کابینہ کی منظوری کی صورت میں 2026 کے آخری مہینوں میں نئے ڈیزائن والی کرنسی کے اجرا کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل نئے کرنسی نوٹ اسٹیٹ بینک کی چھپائی
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔