بنگلہ دیش کی سخت شرائط کے تحت غزہ بین الاقوامی فورس میں شمولیت پر آمادگی
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں تجویز کردہ بین الاقوامی استحکام فورس میں صرف اس صورت میں شامل ہونے پر غور کرے گا جب چند واضح شرائط پوری ہوں۔
یہ بات ملک کے چیف ایڈوائزر پروفیسر یونس کے پریس سیکریٹری نے بتائی۔
پریس سیکریٹری شفیق الحق عالم نے ایک بیان میں کہاکہ بنگلہ دیش کی شمولیت زمین پر حالات اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے منظور شدہ مینڈیٹ پر منحصر ہوگی۔
مزید پڑھیں: غزہ اسٹیبلائزیشن فورس میں شمولیت، بنگلہ دیشی فلسطین یکجہتی کمیٹی کا شدید ردعمل
انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش جو دنیا کے سب سے بڑے مسلم اکثریتی ممالک میں سے ایک ہے ہمیشہ سے غزہ میں اسرائیلی مظالم کی مذمت کرتا آیا ہے اور فوراً جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کا مطالبہ کرتا ہے۔
’17 نومبر 2025 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد میں غزہ میں استحکام بحال کرنے کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام کی تجویز دی گئی تھی۔‘
شفیق الحق عالم نے بتایا کہ سلامتی کونسل میں نمائندگی کرنے والے تمام مسلم ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ متعدد عرب اور مسلم ریاستوں نے بھی اس کے نفاذ کی حمایت کی۔
انہوں نے کہاکہ بنگلہ دیش سلامتی کونسل کے فیصلے کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے اور متعدد مسلم ممالک نے بھی فوجی شراکت میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اور ہم اس معاملے پر غور کر رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیاکہ بطور عالمی امن قائم رکھنے میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے والے ممالک میں سے ایک اور فلسطینی حقوق کے مضبوط حامی کے طور پر، بنگلہ دیش استحکام فورس میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ درج ذیل شرائط پوری ہوں:
• فورس عارضی ہوگی اور صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مینڈیٹ کے تحت کام کرے گی۔
• غزہ میں پائیدار جنگ بندی قائم ہو۔
• تمام اسرائیلی فوجیں غزہ سے مکمل طور پر واپس جائیں۔
• غزہ کا انتظام فلسطینیوں کے حوالے کیا جائے۔
پریس سیکریٹری نے دوبارہ زور دیا کہ بنگلہ دیش فلسطینی عوام کے خود ارادیت 1967 کی حدود پر مبنی ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے اصولی مؤقف پر قائم ہے، جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو۔
مزید پڑھیں: کئی ممالک غزہ فورس میں شامل ہونے کو تیار، مگر اسرائیل کی منظوری لازمی، مارکو روبیو
یہ معاملہ حال ہی میں واشنگٹن کے دورے کے دوران بھی زیر بحث آیا، جہاں بنگلہ دیش کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر خلیل الرحمان نے امریکی ڈپٹی سیکریٹری برائے سیاسی امور سے ملاقات میں تجویز کردہ فورس میں شمولیت سے متعلق ڈھاکہ کے اصولی مؤقف سے آگاہ کیا۔
حکومت نے واضح کیاکہ کوئی بھی حتمی فیصلہ تب ہی کیا جائے گا جب بین الاقوامی قانون کے مطابق فلسطینی خودمختاری کے تحفظ کی ٹھوس ضمانتیں حاصل ہوں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پروفیسر یونس سخت شرائط غزہ بین الاقوامی فورس وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پروفیسر یونس غزہ بین الاقوامی فورس وی نیوز بین الاقوامی سلامتی کونسل کہ بنگلہ دیش فورس میں
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔