بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں تجویز کردہ بین الاقوامی استحکام فورس میں صرف اس صورت میں شامل ہونے پر غور کرے گا جب چند واضح شرائط پوری ہوں۔

یہ بات ملک کے چیف ایڈوائزر پروفیسر یونس کے پریس سیکریٹری نے بتائی۔

پریس سیکریٹری شفیق الحق عالم نے ایک بیان میں کہاکہ بنگلہ دیش کی شمولیت زمین پر حالات اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے منظور شدہ مینڈیٹ پر منحصر ہوگی۔

مزید پڑھیں: غزہ اسٹیبلائزیشن فورس میں شمولیت، بنگلہ دیشی فلسطین یکجہتی کمیٹی کا شدید ردعمل

انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش جو دنیا کے سب سے بڑے مسلم اکثریتی ممالک میں سے ایک ہے ہمیشہ سے غزہ میں اسرائیلی مظالم کی مذمت کرتا آیا ہے اور فوراً جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کا مطالبہ کرتا ہے۔

’17 نومبر 2025 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد میں غزہ میں استحکام بحال کرنے کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام کی تجویز دی گئی تھی۔‘

شفیق الحق عالم نے بتایا کہ سلامتی کونسل میں نمائندگی کرنے والے تمام مسلم ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ متعدد عرب اور مسلم ریاستوں نے بھی اس کے نفاذ کی حمایت کی۔

انہوں نے کہاکہ بنگلہ دیش سلامتی کونسل کے فیصلے کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے اور متعدد مسلم ممالک نے بھی فوجی شراکت میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اور ہم اس معاملے پر غور کر رہے ہیں۔

انہوں نے واضح کیاکہ بطور عالمی امن قائم رکھنے میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے والے ممالک میں سے ایک اور فلسطینی حقوق کے مضبوط حامی کے طور پر، بنگلہ دیش استحکام فورس میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ درج ذیل شرائط پوری ہوں:

• فورس عارضی ہوگی اور صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مینڈیٹ کے تحت کام کرے گی۔

• غزہ میں پائیدار جنگ بندی قائم ہو۔

• تمام اسرائیلی فوجیں غزہ سے مکمل طور پر واپس جائیں۔

• غزہ کا انتظام فلسطینیوں کے حوالے کیا جائے۔

پریس سیکریٹری نے دوبارہ زور دیا کہ بنگلہ دیش فلسطینی عوام کے خود ارادیت 1967 کی حدود پر مبنی ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے اصولی مؤقف پر قائم ہے، جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو۔

مزید پڑھیں: کئی ممالک غزہ فورس میں شامل ہونے کو تیار، مگر اسرائیل کی منظوری لازمی، مارکو روبیو

یہ معاملہ حال ہی میں واشنگٹن کے دورے کے دوران بھی زیر بحث آیا، جہاں بنگلہ دیش کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر خلیل الرحمان نے امریکی ڈپٹی سیکریٹری برائے سیاسی امور سے ملاقات میں تجویز کردہ فورس میں شمولیت سے متعلق ڈھاکہ کے اصولی مؤقف سے آگاہ کیا۔

حکومت نے واضح کیاکہ کوئی بھی حتمی فیصلہ تب ہی کیا جائے گا جب بین الاقوامی قانون کے مطابق فلسطینی خودمختاری کے تحفظ کی ٹھوس ضمانتیں حاصل ہوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews پروفیسر یونس سخت شرائط غزہ بین الاقوامی فورس وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پروفیسر یونس غزہ بین الاقوامی فورس وی نیوز بین الاقوامی سلامتی کونسل کہ بنگلہ دیش فورس میں

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار