غزہ اسٹیبلائزیشن فورس میں شمولیت، بنگلہ دیشی فلسطین یکجہتی کمیٹی کا شدید ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش فلسطین یکجہتی کمیٹی نے غزہ کے لیے مجوزہ بین الاقوامی اسٹیبلائزیشن فورس میں شمولیت کے حوالے سے عبوری حکومت کی اصولی دلچسپی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
بنگلہ دیش فلسطین یکجہتی کمیٹی نے اس حالیہ حکومتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اس اقدام سے فوری دستبرداری کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کا امریکا کو پیغام، غزہ مشن میں شامل ہونے پر آمادگی
اپنے ایک بیان میں کمیٹی کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی شمولیت فلسطینی عوام کے لیے بنگلہ دیش کی طویل عرصے سے جاری اخلاقی اور سیاسی حمایت کے منافی ہوگی۔
???? Bangladesh Proposes Troops for Gaza Security
Bangladesh has proposed the possible deployment of Bangladesh Army troops to Gaza as part of an International Stabilisation Force (ISF).
— BDMilitary (@BDMILITARY) January 12, 2026
کمیٹی نے خبردار کیا کہ مجوزہ فورس کا بنیادی کردار اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنانے کے نام پر غزہ میں فلسطینی مزاحمتی گروہوں کو غیر مسلح کرنا ہوگا، جو دراصل فلسطینی مزاحمت کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔
بیان کے مطابق کمیٹی کے رکن سیکریٹری پروفیسر ڈاکٹر محمد ہارون الرشید نے واشنگٹن میں حالیہ سفارتی رابطوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
مزید پڑھیں: سینٹ مارٹن جزیرہ کا ماحولیاتی تحفظ، بنگلہ دیش کا سیاحت محدود کرنے کا فیصلہ
انہوں نے سرکاری بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کے قومی سلامتی کے مشیر خلیل الرحمان نے واشنگٹن کے دورے کے دوران ایلسن ہوکر اور پال کپور سمیت اعلیٰ امریکی حکام سے ملاقاتوں میں مجوزہ اسٹیبلائزیشن فورس میں ڈھاکہ کی دلچسپی سے آگاہ کیا۔
کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ بنگلہ دیش کے عوام ہمیشہ فلسطینی عوام کی جدوجہدِ آزادی اور حقوق کے لیے یکجہتی کا اظہار کرتے آئے ہیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کی امریکی تجارتی نمائندے سے ملاقات، تجارتی امور پر تبادلہ خیال
کمیٹی نے عبوری حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسی اصولی مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے مجوزہ فورس میں کسی بھی قسم کی شمولیت سے گریز کرے۔
بیان کے اختتام پر بنگلہ دیش کی جانب سے فلسطینی کاز کی تاریخی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے پالیسی سازوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ عوامی جذبات اور قومی اقدار کے مطابق فیصلے کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امن فورس بنگلہ دیش خلیل الرحمان ڈاکٹر محمد ہارون الرشید غزہ فلسطین یکجہتی کمیٹی قومی سلامتی واشنگٹن
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امن فورس بنگلہ دیش خلیل الرحمان ڈاکٹر محمد ہارون الرشید قومی سلامتی واشنگٹن بنگلہ دیش کمیٹی نے فورس میں کے لیے
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔