سعودی عرب: 10 ہزار سے زائد غیر قانونی مقیم ڈی پورٹ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جدہ: سعودی عرب میں 10 ہزار 195 غیر قانونی تارکین کو ملک بدر کردیا گیا۔
عالمی میڈیا کے مطابق مملکت میں یکم سے 7 جنوری تک 11 ہزار 710 افراد کو اقامہ قانون، 4 ہزار 239 کو غیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور 2 ہزار 887 کو قانون محنت کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا، جس میں 10 ہزار 195 غیر قانونی تارکین کو ملک بدر کردیا گیا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں گزشتہ ہفتے اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی خلاف ورزیوں پر مزید 18 ہزار836 افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق غیر قانونی طور پر سعودی عرب میں داخل ہونے کی کوشش پر1 ہزار741 افراد کو گرفتار کیا گیا۔حراست شدہ میں60 فیصد ایتھوپین، 39 فیصد یمنی اور1 فیصد کا تعلق دیگر ممالک سے ہے، 46 ایسے افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، جو سرحد پار کرکے مملکت سے ہمسایہ ممالک میں داخل ہونے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ یہ بات بھی علم میں رہے کہ حکام کا کہنا ہے کہ سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 19 افراد کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: افراد کو
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔