سندھ پیپلز ہاؤسنگ اسکیم کے تحت گھروں کی تعمیر میں بدعنوانیاں، ہینڈز این جی او ہاتھ کرگئی
قسطوں کی ادائیاں شفافیت سے محروم ،بلیک میلنگ اوررشوت طلبی ثابت، انکوائری رپورٹ

(رپورٹ : امداد سومرو) سیلاب متاثرین ہاؤسنگ اسکیم میں سنگین بدعنوانی، سرکاری انکوائری میں ہینڈز( HANDS)این جی او اور ایجنٹس کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہوا ہے ۔ دستیاب سرکاری ریکارڈ کے مطابق عمر کوٹ میں سندھ پیپلز ہاؤسنگ اسکیم برائے سیلاب متاثرین (SPHF) کے تحت گھروں کی تعمیر میں سنگین بدعنوانی، رشوت ستانی، بلیک میلنگ اور ناقص تعمیرات کے الزامات سرکاری انکوائری میں درست ثابت ہو گئے ہیں۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق ‘ہینڈز’این جی او کے عملے نے نجی ایجنٹس کے ذریعے ایک منظم کرپشن نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا، جس کے ذریعے متاثرین سے غیر قانونی رقوم وصول کی جاتی رہیں۔یہ انکوائری سندھ کے وزیر سماجی بہبود کی ہدایات اور چیئرمین ضلع کونسل عمرکوٹ کی تحریری شکایت پر کی گئی، جس کی رپورٹ ایڈیشنل ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر، ضلع عمرکوٹ نے 15دسمبر 2025کو محکمہ سماجی بہبود کو ارسال کی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق فیلڈ وزٹس کے دوران جتو پلی، ہاشم پلی، منیم پلی، ولی محمد تھیبو سمیت مختلف دیہات کے کم از کم 25 متاثرین کے بیانات قلم بند کیے گئے ۔ متاثرین نے بتایا کہ ایجنٹس رمیش اور ہرچند عرف کرو نے پہلی اور دوسری قسط جاری ہونے کے بعد رقم واپس لے لیتے تھے ۔متاثرین کے مطابق اگر کوئی خاندان رشوت دینے سے انکار کرتا تو مکان کی تعمیر روکنے ، اگلی قسط کی تصدیق نہ کرنے اور بلیک میل کرنے کی دھمکیاں دی جاتیں۔ کئی مکانات چار ماہ گزرنے کے باوجود صرف پلنتھ لیول تک محدود پائے گئے ، جبکہ تعمیراتی معیار انتہائی ناقص تھا۔انکوائری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایجنٹس سندھ بینک کے باہر موجود رہتے اور متاثرین کے رقم نکلوانے کے فوراً بعد انہیں رشوت دینے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ دوسری قسط کے بعد چار ہزار سے آٹھ ہزار روپے رشوت طلب کی جاتی رہی۔رپورٹ کے مطابق ادائیگیوں کا کوئی شفاف شیڈول موجود نہیں تھا اور قسطوں کے اجرا کا اختیار بینک فوکل پرسن کی صوابدید پر تھا، جس سے بلیک میلنگ کا راستہ ہموار ہوا۔ رپورٹ میں یومیہ چار لاکھ روپے تک غیر قانونی وصولی کا اندازہ بھی لگایا گیا ہے ۔انکوائری میں پولیس کے ذریعے حاصل کردہ کال ڈیٹا ریکارڈ (CDRs) بھی شامل کیے گئے ، جن سے ہینڈز کے فیلڈ انجینئرز، سوشل آرگنائزرز اور ایجنٹس کے درمیان سینکڑوں فون کالز کا انکشاف ہوا۔رپورٹ کے مطابق ایک فیلڈ انجینئر اور ایجنٹ کے درمیان ایک سال میں 600سے زائد رابطے سامنے آئے ، جبکہ بینک فوکل پرسن اور ایجنٹ کے درمیان بھی غیر معمولی رابطے ثابت ہوئے ۔ رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ ڈیٹا عملے اور ایجنٹس کے گٹھ جوڑ کو ثابت کرتا ہے ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہینڈز نے سوشل آرگنائزرز کو فیلڈ انجینئر کے فرائض سونپ رکھے تھے ، حالانکہ وہ تکنیکی صلاحیت نہیں رکھتے تھے ۔ صرف 11اہلکار تقریباً 12 ہزار گھروں کی نگرانی کر رہے تھے ، جو انسانی طور پر ناممکن قرار دیا گیا۔ انکوائری کے مطابق ہینڈزکو فی گھر 85لاکھ روپے دیے جا رہے تھے ، جبکہ اصل خرچ انتہائی کم رہا۔ رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس مد میں 45کروڑ روپے سے زائد رقم کا سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا گیا ۔ انکوائری رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ’ہینڈز’این جی او کے ملوث عملے کو ملازمت سے برطرف اور آئندہ کے لیے نااہل قرار دیا جائے۔ ایجنٹس رمیش اور ہرچند عرف کرو کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے ، معاملہ اینٹی کرپشن، ایف آئی اے اور نیب کو بھجوایا جائے جبکہ سندھ چیریٹی کمیشن ہینڈزکی رجسٹریشن معطل یا منسوخ کرے ، متاثرین کو تحفظ فراہم کیا جائے اور ادائیگیوں کا شفاف شیڈول جاری کیا جائے سرکاری انکوائری کے مطابق ایس پی ایچ ایف کے تحت عمر کوٹ میں ہونے والی بدعنوانی ایک منظم اور سوچے سمجھے نظام کے تحت کی گئی، جس میں متاثرین کو مجبوری اور بے بسی کا شکار بنایا گیا۔ اب یہ معاملہ سندھ حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے کہ آیا وہ اپنی ہی رپورٹ پر عمل درآمد کراتی ہے یا نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: انکوائری رپورٹ رپورٹ کے مطابق ہاو سنگ اسکیم رپورٹ میں گیا ہے کہ کے تحت

پڑھیں:

مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی

پشاور:

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔

فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔

انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔

متعلقہ مضامین

  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق