برطانوی حکومت نے گوانتانا جیل میں قید ابو زبیدہ کو زرتلافی ادا کردی
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260113-08-18
لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی حکومت نے پاکستان سے گرفتار ہوکر 23 برسوں سے تاحال گوانتانا موبے میں بے گناہ قید کاٹنے والے فلسطینی نژاد ابو زبیدہ کو زرتلافی کے طور پر بھاری رقم ادا کردی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ ادائیگی ابو زبیدہ کی جانب سے برطانوی حکومت کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے کے نتیجے میں کی گئی۔ مقدمے میں ابو زبیدہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ میری 23 سال سے تاحال جاری غیر قانونی حراست اور تشدد میں برطانوی اداروں نے بھی بالواسطہ کردار ادا کیا تھا۔ اگرچہ معاوضے کی درست رقم ظاہر نہیں کی گئی تاہم ابو زبیدہ کی وکیل کا کہنا ہے کہ یہ رقم خاصی بڑی ہے اور اس کی ادائیگی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ یاد رہے کہ زر تلافی کی رقم ملنے کے باوجود تاحال ابو زبیدہ امریکی حراست میں ہیں اور گوانتاناموبے میں ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ ابو زبیدہ کا اصل نام زین العابدین محمد حسین ہے۔ وہ فلسطینی نژاد ہیں اور 2000 کی دہائی کے آغاز میں امریکا نے ان پر القاعدہ کا سینئر رہنما اور اسامہ بن لادن کا قریبی ساتھی ہونے کا الزام عاید کیا تھاتاہم بعد ازاں امریکی حکومت خود اس دعوے سے دستبردار ہو چکی ہے۔ ابو زبیدہ کو مارچ 2002 میں فیصل آباد میں ایک چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ اس گرفتاری کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے خود ان کی گرفتاری کا اعلان کیا اور القاعدہ کا اہم رہنما قرار دیا۔ 2002 میں گرفتاری کے بعد سے ابو زبیدہ کو سی آئی اے کی مختلف خفیہ جیلوں (Black Sites) میں 2006 تک رکھا گیا جہاں امریکی عدالتی نظام کا اطلاق نہیں ہوتا تھا۔ اس دوران ابو زبیدہ کو 11 دن تک تابوت نما ڈبے میں بند رکھا گیا، 83 مرتبہ واٹر بورڈنگ کا نشانہ بنایا گیا، سونے نہیں دیا گیا اور اتنا تشدد کیا گیا کہ ایک آنکھ ضائع ہوگئی۔ ان تمام تر تشدد کے باوجود نہ اعترافی بیان ملا اور نہ کوئی ٹھوس ثبوت ہاتھ آیا۔ اس کے باوجود 2006 میں گوانتانامو منتقل کردیا گیا۔ جہاں وہ تاحال قید ہیں اور ان پر آج تک کسی عدالت میں باقاعدہ فردِ جرم عاید نہیں کی جا سکی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ابو زبیدہ کو
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔