حکومت کا بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت نے اوسط بنیادی ٹیرف میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری پاور ڈویژن نے نیپرا میں ہونے والی سماعت کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بجلی کے نرخ میں اضافے سے بچنے کے لیے سبسڈی کو ایڈجسٹ کر دیا گیا، جس کے باعث اب ٹیرف بڑھانے کی ضرورت نہیں رہی۔ پاور ڈویژن حکام کے مطابق جولائی سے اب تک انرجی مکس میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جس سے پیداواری لاگت بہتر ہوئی اور صارفین کو ریلیف دینا ممکن ہوا۔ حکام نے واضح کیا کہ حکومت نے تمام تر حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیرف میں ردوبدل نہ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک بھر میں تمام کیٹیگریز کے بجلی صارفین کو مجموعی طور پر 629 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے، تاکہ عوام کو بجلی سستی نرخ پر میسر رہے۔علاوہ ازیں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ملک بھر میں بجلی کے بنیادی ٹیرف کی حکومتی درخواست منظور کرلی۔ جس کے تحت کے الیکٹرک سمیت ملک بھر کے لیے بجلی کا بنیادی ٹیرف برقرار رہے گا۔ نیپرا نے بنیادی ٹیرف پر فیصلہ حکومت کو بھجوا دیا جس کے بعد وفاقی حکومت بنیادی ٹیرف کا نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بنیادی ٹیرف
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا