کوئٹہ :سرکاری ملازمین کا 15 جنوری کو لاک ڈاؤن کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: بلوچستان کے سرکاری ملازمین کے اتحاد گرینڈ الائنس نے مطالبات تسلیم نہ کیے جانے پر احتجاجی تحریک کے دوسرے مرحلے کا آغاز کردیا ہے۔ اس سلسلے میں سرکاری ملازمین نے خضدار، قلعہ سیف اللہ، پنجگور، ڈیرہ مراد جمالی، نوشکی اور لسبیلہ میں علامتی طور پر قومی شاہراہیں 2 گھنٹے کے لیے بند کیں، جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر رہی۔
گرینڈ الائنس کے مطابق احتجاجی تحریک مرحلہ وار جاری رہے گی،اعلان کے تحت 13 جنوری کو قلات، پشین، لورالائی، دالبندین، تربت اور پسنی جبکہ 14 جنوری کو ڈیرہ اللہ یار، حب، خاران، ژوب، گوادر، چمن اور رکنی میں بھی قومی شاہراہوں کی علامتی بندش کی جائے گی۔
وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کرلیا
الائنس نے واضح کیا ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو 15 جنوری کو صوبے بھر میں مکمل لاک ڈاؤن کیا جائے گا اور تمام سرکاری ادارے بند رہیں گے۔
بلوچستان گرینڈ الائنس نے مزید کہاکہ 20 جنوری کو صوبے بھر سے سرکاری ملازمین کوئٹہ میں ریڈ زون کے باہر غیر معینہ مدت کے لیے احتجاجی دھرنا دیں گے، جو مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔
گرینڈ الائنس کا بنیادی مطالبہ ہے کہ سرکاری ملازمین کو وفاقی طرز پر فوری طور پر 30 فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس دیا جائے،اس کے علاوہ سرکاری محکموں کی نجکاری، پینشن اصلاحات کے نفاذ کے خاتمے، کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتیوں کے اختتام اور دیگر انتظامی امور سے متعلق نکات بھی مطالبات میں شامل ہیں۔
سہیل آفریدی نے جھوٹ اور منافقت کی انتہا کر دی؛ عطاء اللہ تارڑ
احتجاجی مظاہروں کے باعث مختلف علاقوں میں شہریوں کو آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ گرینڈ الائنس نے خبردار کیا ہے کہ مطالبات پر سنجیدہ پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سرکاری ملازمین گرینڈ الائنس الائنس نے جنوری کو
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ