حماس نے غزہ کی حکمرانی سے علیحدگی کا اعلان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
تنظیم کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ غزہ میں موجود تمام سرکاری و انتظامی ڈھانچے اب ایک خودمختار فلسطینی ٹیکنوکریٹک اتھارٹی کے تحت کام کریں گے۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن کونسل کے قیام سے متعلق حالیہ بیان کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں ایک آزاد فلسطینی ادارے کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ تنظیم کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ غزہ میں موجود تمام سرکاری و انتظامی ڈھانچے اب ایک خودمختار فلسطینی ٹیکنوکریٹک اتھارٹی کے تحت کام کریں گے۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن کونسل کے قیام سے متعلق حالیہ بیان کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ ان کے مطابق تنظیم نے غزہ کے تمام اداروں کو ہدایت دے دی ہے کہ وہ مکمل اختیارات آزاد فلسطینی ٹیکنوکریٹک باڈی کو منتقل کر دیں۔ خبر رساں ادارے مڈل ایسٹ مانیٹر کے مطابق حازم قاسم نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ غزہ کے انتظامی امور سے دستبردار ہونے کا فیصلہ حتمی اور غیر مبہم ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ نئی اتھارٹی بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ اختیارات کی یہ منتقلی اس معاہدے کا حصہ ہے جس کے تحت غزہ میں جنگ بندی ممکن ہوئی تھی۔ اس منصوبے پر شرم الشیخ میں دستخط کیے گئے تھے اور اس میں غزہ کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق واضح نکات شامل ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ فلسطینی سیاسی دھڑوں کے درمیان اس سے قبل بھی اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے کہ غزہ کا نظم و نسق ایک عارضی فلسطینی کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا، جو آزاد شخصیات اور مقامی ماہرین پر مشتمل ہوگی۔ واضح رہے کہ چند روز قبل حماس کے سیاسی بیورو کے رکن باسم نعیم نے بھی اس بات کا اعلان کیا تھا کہ غزہ میں ایک بااختیار فلسطینی حکومت کے قیام کے بعد حماس انتظامی کردار سے الگ ہونے کے لیے تیار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کے اختتام پر شاندار کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں عالمی فٹبال کے کئی نامور ستاروں کو پورے ایونٹ میں بہترین کھیل کی بنیاد پر شامل کیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق منتخب ٹیم میں ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی، فرانس کے کپتان کیلیان ایمباپے اور ناروے کے اسٹار اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ کو فرنٹ لائن کا حصہ بنایا گیا ہے۔
مڈفیلڈ میں ورلڈ کپ کے گولڈن بال کے فاتح اور اسپین کے کپتان روڈری ، انگلینڈ کے جوڈ بیلنگھم اور فرانس کے مائیکل اولیسے کو جگہ دی گئی ہے، جنہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
دفاعی لائن میں کیپ وردے کے گول کیپر ووزینیا کو منتخب کیا گیا ہے، جبکہ اسپین کے عالمی چیمپئن مارک کوکوریلا اور پیڈرو پورو ، فرانس کے ڈایو اوپامیکانو اور ارجنٹائن کے لیساندرو مارٹینیز بھی دفاع کا حصہ ہیں۔
فیفا کے مطابق ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا انتخاب کھلاڑیوں کی مجموعی کارکردگی، ٹیم پر اثراندازی اور پورے ایونٹ کے دوران مستقل بہترین کھیل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
دوسری جانب فیفا نے ورلڈ کپ کے اختتام پر نئی عالمی رینکنگ بھی جاری کر دی ہے۔ نئی عالمی چیمپئن اسپین ایک درجہ ترقی کے بعد دنیا کی نمبر ایک ٹیم بن گئی، جبکہ رنر اپ ارجنٹائن ایک درجہ تنزلی کے بعد دوسرے نمبر پر چلی گئی۔
رینکنگ میں فرانس تیسرے اور انگلینڈ چوتھے نمبر پر برقرار ہیں، جبکہ برازیل اور مراکش ایک، ایک درجہ ترقی کے ساتھ بالترتیب پانچویں اور چھٹے نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔
ادھر کرسٹیانو رونالڈو کی پرتگال دو درجے تنزلی کے بعد ساتویں نمبر پر آ گئی، جبکہ میزبان میکسیکو نے ورلڈ کپ میں عمدہ کارکردگی کی بدولت چار درجے ترقی کرکے ٹاپ ٹین میں جگہ بنا لی۔
ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی ناروے کی ٹیم نے بھی نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے 12 درجے ترقی کی اور عالمی رینکنگ میں 19ویں پوزیشن حاصل کر لی۔