پاک بھارت جنگ: چین کا پہلی بار جے 10 سی طیارے کی کامیابی کا باضابطہ اعلان
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
پاک بھارت جنگ: چین کا پہلی بار جے 10 سی طیارے کی کامیابی کا باضابطہ اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 13 January, 2026 سب نیوز
بیجنگ: (آئی پی ایس) چین کی قومی دفاعی سائنس و ٹیکنالوجی صنعت بیورو کے مطابق چینی جنگی طیارے جے 10 سی ای نے مئی 2025 میں اپنی پہلی عملی جنگی کامیابی حاصل کی۔
یہ پہلی بار ہے کہ چین کے کسی سرکاری ادارے نے باضابطہ طور پر جے 10 سی ای کی جنگی میدان میں کامیابی کا اعلان کیا ہو، بیان میں گزشتہ سال مئی کا ذکر کیا گیا ہے لیکن انڈیا پاکستان جنگ کا براہ راست ذکر نہیں کیا گیا۔
خیال رہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے مئی کی جھڑپ کے فوری بعد رفال سمیت انڈیا کے چھ طیارے مار گرانے کا اعلان کیا تھا تاہم نومبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیر اعظم شہباز شریف نے سات طیاروں کے مار گرائے جانے کا اعلان کیا۔
امریکی صدر ٹرمپ بھی متعدد بار مئی کی جنگ میں سات سے آٹھ طیاروں کے مار گرائے جانے کا ذکر کر چکے ہیں جب کہ انڈین افواج کے سربراہ جنرل انیل چوہان نے گزشتہ سال سنگاپور میں اپنے طیاروں کے نقصان کا اعتراف کیا تھا لیکن ان کی اصل تعداد نہیں بتائی تھی۔
چین کے سٹیٹ ایڈمینسٹریشن آف سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انڈسٹری فار نیشنل ڈیفینس (ایس اے ایس ٹی آئی این ڈی) کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ جے 10 سی ای طیاروں نے مئی میں فضائی لڑائی کے دوران متعدد دشمن طیاروں کو مار گرایا جبکہ یہ طیارے خود کسی نقصان سے محفوظ رہے۔
چین کی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق جے-10سی ای کی اس پہلی جنگی کارکردگی نے بین الاقوامی دفاعی ماہرین اور عالمی ہوابازی صنعت کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ کامیابی چین کی دفاعی سائنس و ٹیکنالوجی صنعت کی جانب سے جاری کردہ 2025 کی دس اہم ترین خبروں میں بھی شامل کی گئی ہے۔
سرکاری اعلان میں بتایا گیا ہے کہ جے-10سی ایک مکمل طور پر چین میں تیار کردہ آل ویدر، سنگل انجن اور سنگل سیٹ ملٹی رول جنگی طیارہ ہے، جو فضائی برتری، انٹرسیپشن اور مختلف قسم کے حملوں کی صلاحیت رکھتا ہے۔
چینی ادارے کے مطابق یہ طیارہ جدید ریڈار، ایویونکس اور ہتھیاروں سے لیس ہے اور اس کی برآمدی کارکردگی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ چینی جنگی ساز و سامان نہ صرف قابلِ بھروسہ ہے بلکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنی نوعیت کے دیگر طیاروں کے مقابلے میں مضبوط مقابلتی صلاحیت رکھتا ہے۔
چینی حکام کے مطابق جے-10سی کی جنگی کامیابی نہ صرف طیارے کی عملی افادیت کا ثبوت ہے بلکہ اس سے دیگر چینی دفاعی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی میں بھی مدد ملے گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹرمپ نے ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فی صد ٹیرف نافذ کر دیا ٹرمپ نے ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فی صد ٹیرف نافذ کر دیا امریکا نے /2026 میں اب تک ایک لاکھ سے زائد ویزے منسوخ کردیے: طلبہ اور مجرمانہ ریکارڈ والے افراد نشانے پر نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے ممبر فواد چوہدری کی اسد محمود سے ملاقات ، سیاسی حکمت عملی پر سیر حاصل گفتگو پیپلزپارٹی کے قومی اسمبلی سے احتجاج کے بعد وزیر اعظم نے اسپشل اکنامک زون آرڈیننس واپس لے لیا چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے انڈونیشیا کے وزیر دفاع کی ملاقات وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ازبک وزیر خارجہ بختیار سے ٹیلیفونک رابطہ، دو طرفہ تعلقات کے فروغ کے عزم کا اعادہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔