سعودی عرب کی بڑی کمپنیوں کی پنجاب میں اربوں ڈالر سرمایہ کاری کی تیاریاں
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
علی رامے:پنجاب میں سعودی عرب کی بڑی کمپنیوں کی جانب سے 1 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کے منصوبے زیر غور ہیں۔ مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دلچسپی ظاہر کی گئی ہے۔
انڈسٹریل بلاک سلوشنز: تعمیراتی شعبے میں 150 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی تجویز پیش کی گئی۔
الریف الثالث میٹ کمپنی: حلال گوشت اور فوڈ پروسیسنگ میں 250 ملین ڈالر تک سرمایہ کاری میں دلچسپی طاہر کی گئی۔
ایڈوانس کریٹوٹی: مائنز اینڈ منرلز اور حلال فوڈ کے لیے 300 ملین ڈالر تک سرمایہ کاری کی پیشکش کی گئی۔
وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کرلیا
ذرائع کے مطابق پانچ مزید سعودی کمپنیوں کے ساتھ بھی حکومت رابطے میں ہے۔ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ سعودی عرب پاکستان میں 1 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری فریم ورک پر غور کر رہا ہے، اور سعودی کونسل و وزارتِ سرمایہ کاری پنجاب حکومت کے ساتھ مسلسل مشاورت کر رہی ہیں۔
متعدد منصوبوں کے لیے زمین، شراکت داری اور فزیبلٹی پر پیشرفت جاری ہے، جس سے نہ صرف روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے بلکہ معیشت کو مضبوط سہارا بھی ملے گا۔
سہیل آفریدی نے جھوٹ اور منافقت کی انتہا کر دی؛ عطاء اللہ تارڑ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔