WE News:
2026-07-24@05:02:52 GMT

ونڈر بوائے کیوں؟

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT

ونڈر بوائے کیوں؟

سہیل وڑائچ کا شمار پاکستان کے معتبر ترین صحافیوں میں ہوتا ہے۔ ان کےکالم ’ونڈربوائے‘ نے ملک کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں ہلچل مچا دی۔ ایک سے بڑھ کر ایک جید صحافی ’ونڈر بوائے‘ کی تلاش کی نفی کرنے نکل پڑا۔

’انتہائی مستند ذرائع‘ سے خبریں آگئیں کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت اور طاقتورحلقے ایک پیج پر ہیں۔ بڑے عہدوں پر فائز ان کے قریبی لوگ سہیل وڑائچ سے ناراض ہو گئے۔ مگر سہیل وڑائچ نہ مانے۔ انہوں نے ایک اور کالم چھاپ دیا کہ بلی چوہے کا کھیل جاری ہے اور چوہا اپنی جان بچانے کے لیے ہاتھ پاوّں مار رہا ہے۔

مسئلہ ہے کیا؟ ونڈر بوائے کیوں درکار ہے؟ سب ٹھیک تو چل رہا ہے۔ موجودہ رجیم کے سب سے بڑے مخالف جیل میں قید ہیں۔ ناقدین ڈھونڈنے سے نہیں ملتے۔ بھارت سے تاریخی جنگ جیت کر اپنا لوہا منوا چکے ہیں۔

کئی ملکوں کے ساتھ دفاعی معاہدے کیے جا رہے ہیں۔ دنیا نے تعریفوں کے پل باندھ دئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی تعریف میں تمام حدیں پار کردیں۔ ٹرمپ نے جتنی مرتبہ پاکستان کا نام لیا شاید تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔ معاشی اشاریے بھی مثبت دکھائی دے رہے ہیں۔ مہنگائی کی شرح کم ہوگئی۔ ڈالر پر پورا کنٹرول ہے۔ ترسیلات زر تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

اپوزیشن ناکارہ بنا دی گئی ہے۔ حکومت سر جھکائے اپنے کام میں مگن ہے۔ میڈیا بھی سب اچھا ہے کا ورد کرتا دکھائی دیتا ہے۔ حکومت بھی فخر سے بتا رہی ہے کہ روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانے والے نوجوانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ معدنیات اور دیگر شعبوں میں ہزاروں کی تعداد میں سرمایہ کاری کے معاہدے طے پا رہے ہیں۔

ہاں سرمایہ کاری نہیں آ رہی۔ خوش حالی نہیں آرہی۔ لوگوں اور خاص طور پر نوجوانوں کے پاس روزگار کے مواقع بہت کم ہیں۔ پچھلے چند برسوں میں ہونے والی مہنگائی کے باعث محدود آمدن سے عوام کے خرچے پورے نہیں ہو پا رہے۔ بہت سے خاندانوں نے بچوں کو مہنگے سکولوں سے اٹھا کر نستبا سستے تعلیمی اداروں میں ڈال دیا ہے۔ بجلی، گیس کے بل بڑھتے جا رہے ہیں۔ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کی بھرمار کرکے سالانہ ریونیو بڑھانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ طاقتور ٹیکس نیٹ نہیں آ رہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق غذائی عدم تحفظ جو 2018 اور 2019 میں 15 اشاریہ 9 فیصد سے بڑھ کر2024 اور 2025 میں  24 اشاریہ 4 کی خوفناک سطح تک پہنچ چکا ہے۔

سرمایے کی اڑان رک نہیں پا رہی۔ نوجوان بیرون ملک سے بھاگ رہے ہیں۔ مغربی سرحدوں پر دہشت گردوں کی چھیڑچھاڑ مسلسل جاری ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ امن و امان اور سیاسی استحکام سرمایہ کاری میں رکاوٹ ہے یا پھر ہم برآمدی اشیا میں کوالٹی اور جدت میں مقابلہ کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے ٹیکسٹائل کی برآمدات کم ہوتی جا رہی ہیں۔ ادھر افغانستان کے ساتھ کشیدگی سے بھی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔

حال ہی میں ایک غیر رسمی نشست میں ایک سفارت کار سے ملاقات میں معاشی صورت حال پر گفتگو ہو رہی تھی۔ انہوں نے بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی کے معاملے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں جب آپ کے ملک کو سرمایہ کاری کی شدید ضرورت ہے اور آپ بازو مروڑ کر بین الاقوامی معاہدوں پر نظرثانی کروا رہے ہیں۔ یہ عمل عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کو خدشات اور خوف میں مبتلا کرنے کے مترادف ہے۔

سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور سازگار ماحول پیدا کرنےکے لیے قائم کئے گئے ادارے ایس آئی ایف سی کی زیرنگرانی منصوبوں کی شفافیت پر آئی ایم ایف اور وزارت خزانہ نے سوالات اٹھا دئے ہیں۔

اب اس بنیادی نکتے پر بات ہو رہی ہے کہ کیا وجوہات ہیں کہ سرمایہ کار ملک میں سرمایہ کاری سے ہچکچا رہے ہیں۔ ایس آئی ایف سی کا کہنا ہے کہ بھاری ٹیکسز، کاروبار میں محکموں کی مداخلت اور کرپشن، دوسرے ممالک کی نسبت پیداواری لاگت زیادہ ہونا، وغیرہ محرکات ہیں جن کی وجہ سے کوششوں کے باوجود سرمایہ کاری نہیں ہو رہی۔ اگر دیکھا جائے تو یہ سب وجوہات تو ہر دور میں رہی ہیں مگر پھر بھی سرمایہ کاری ہوتی رہی۔

اگرچہ 2018 سے قبل ہی ہراساں کرنے اور کرپشن کرپشن کا چرچا بڑے زور شور سے جاری تھا مگرپراجیکٹ عمران خان کے دوران نیب اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے سرمایہ کاروں کو ڈرانے دھمکانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔

بے یقینی اور عدم استحکام کی وجہ سے بہت بڑی تعداد میں پیسے والے لوگ سرمایہ لے کر ملک سے باہر چلے گئے۔ بعض کو اپنا کاروبار بند یا سکیڑنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ ڈیم فنڈ میں زبردستی مالی عطیات جمع کرانے پر مجبور کیا گیا۔ آئے روز میاں منشا سمیت پاکستان کے امیر ترین لوگوں کو نیب یا دیگر دفاتر میں پیش ہونے کے احکامات ملتے تھے۔ بعض کو دھمکیاں دی گئیں کہ فلاں کاروبار بند کردیں یا پھر نتائج بگھتنے کے لیے تیار رہیں۔

عمران خان کا دور ختم ہو گیا مگر وہ سرمایہ کار جنہوں نے کاروبار بیرون ملک منتقل کیا کوششوں کے باوجود وہ ہائبرڈ رجیم کے دور میں بھی واپس آنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کاروباری افراد یا سرمایہ کاروں کا خوف دور نہیں کیا جاسکا۔

بے یقینی اور سیاسی عدم استحکام جیسے حالات میں دوش کس پر آئے گا۔ ایسا تاثر مل رہا ہے کہ حکومت قصوروار ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق یہ دستور ہے کہ طاقتور اور کمزور اگر کہیں ناکام ہوتے نظر آئیں تو قصوروار صرف کمزور ہو گا اور طاقتور کبھی اپنی خامیاں تسلیم نہیں کرے گا۔ قربانی بھی کمزور ہی دے گا اور پھر شاید کسی ‘ونڈر بوائے’ کا تجربہ کیا جائے گا جو سب ٹھیک کردے گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

احمد ولید

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سرمایہ کاری ونڈر بوائے سہیل وڑائچ کے ساتھ رہے ہیں رہی ہیں نہیں ہو کے لیے ہو رہی

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف