اینٹی کرپشن عدالت میں پرویز الہیٰ کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: لاہور کی اینٹی کرپشن عدالت نے پنجاب اسمبلی میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کے مقدمے میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کر لی۔
اینٹی کرپشن عدالت کے ڈیوٹی جج نے کیس کی سماعت کی، دورانِ سماعت پرویز الہیٰ کے وکیل نے عدالت میں ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ چوہدری پرویز الہیٰ کی طبیعت ناساز ہے اور ڈاکٹروں نے انہیں آرام کا مشورہ دیا ہے، لہٰذا عدالت ایک روزہ حاضری معافی منظور کرے۔
وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کرلیا
عدالت نے وکیل کے دلائل سننے کے بعد سابق وزیراعلیٰ پنجاب کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کر لی، سماعت کے دوران سابق وزیراعلیٰ کے سابق پرنسپل سیکرٹری محمد خان بھٹی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
عدالت نے شریک ملزم مختار رانجھا کی بریت کی درخواست پر دلائل طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 18 فروری تک ملتوی کر دی، اینٹی کرپشن حکام کی جانب سے چوہدری پرویز الہیٰ سمیت دیگر ملزمان کے خلاف چالان عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے۔
سہیل آفریدی نے جھوٹ اور منافقت کی انتہا کر دی؛ عطاء اللہ تارڑ
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: لاہور ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست اینٹی کرپشن پرویز الہی
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔