بنگلہ دیش: فوجی تحویل میں بی این پی کارکن ہلاک، اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) سے تعلق رکھنے والا ایک مقامی کارکن فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں پر مشتمل مشترکہ فورس کی تحویل میں ہلاک ہو گیا، جس کے بعد حکام نے واقعے کی اعلیٰ سطحی داخلی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق، انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے بتایا کہ یہ کارروائی 12 جنوری کی رات تقریباً 11 بجے جِیبان نگر اپازیلہ، ضلع چوادانگا میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی، جن میں علاقے میں غیر قانونی اسلحے کی موجودگی کی اطلاع تھی۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش میں شخصی حکمرانی روکنے کے لیے ایوان بالا قائم کرنے کی تجویز پیش
کارروائی کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے محمد شمس الزمان عرف ‘ڈبل’ (عمر تقریباً 50 سال) کو جِیبان نگر اپازیلہ ہیلتھ کمپلیکس کے قریب واقع ایک فارمیسی سے غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں حراست میں لیا۔
بیان میں کہا گیا کہ زیرِ حراست شخص کی نشاندہی پر سیکیورٹی ٹیم نے متعلقہ مقام کی تلاشی لی، جہاں سے ایک 9 ایم ایم پستول، ایک میگزین اور چار کارتوس برآمد کیے گئے۔ حکام کے مطابق کارروائی مکمل ہونے کے بعد زیرِ حراست شخص اچانک بیمار ہو گیا اور بے ہوش ہو گیا۔
محمد شمس الزمان کو فوری طور پر جِیبان نگر اپازیلہ ہیلتھ کمپلیکس منتقل کیا گیا، جہاں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے رات 12 بج کر 25 منٹ پر اس کی موت کی تصدیق کر دی۔
یہ بھی پڑھیے: جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کا معتبر اور شفاف انتخابات پر زور
فوجی حکام نے واقعے کو ‘غیر متوقع، افسوسناک اور ناقابلِ قبول’ قرار دیا ہے۔ واقعے کے بعد کیمپ کمانڈر سمیت آپریشن میں شامل تمام فوجی اہلکاروں کو کینٹونمنٹ واپس بلا لیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے سینئر سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اگر تحقیقات کے دوران کسی اہلکار کی ذمہ داری ثابت ہوئی تو فوجی قانون کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش ڈھاکا فوج.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش ڈھاکا فوج بنگلہ دیش
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔