وزیراعلیٰ پنجاب کی کاوشیں؛ وفاق نے متبادل راستوں سے کینو اور آلو برآمد کرنے کی اجازت دیدی
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
لاہور:
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی کاشتکاروں کے لیے خصوصی کاوشوں کی بدولت وفاقی حکومت نے متبادل راستوں سے کینو اور آلو کی ایکسپورٹ کی اجازت دے دی۔
آلو اور کینو کی ایکسپورٹ میں آسانی کے لیے حکومت پنجاب نے وفاق سے اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دینے کی درخواست کی۔ ڈپٹی وزیراعظم کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے متعلقہ وزاتوں اور اسٹیک ہولڈرز کو نمائندگی دینے کی استدعا کی۔
آلو اور کینو کی ایکسپورٹ کے لیے نئی منڈیوں کی تلاش اور ایکسپورٹ اخراجات میں کمی لانے کے لیے عملی اقدامات کی اپیل کی گئی۔
حکومت پنجاب نے آلو اور کینو کی ایکسپورٹ کے زرمبادلہ کے حصول کے لیے روزانہ کی بنیاد پر مسائل حل کرنے کے لیے عملی اقدامات پر غور کیا۔
مزید پڑھیںپاک افغان کشیدگی سے پاکستانی کینو کے برآمدکنندگان بری طرح متاثر
رواں سیزن کینو کی برآمدات کے لیے تین لاکھ ٹن کا ہدف مقرر
صوبہ پنجاب آلو اور کینو کی مجموعی پیداوار کا 95 فیصد پیدا کرتا ہے جبکہ رواں سال پنجاب میں آلو کی 12 ملین ٹن اور کینو کی 4 ملین ٹن پیداوار متوقع ہے۔
مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ آلو اور کینو کے کاشت کاروں کی محنت رائیگاں نہیں جانے دیں گے، آلو اور کینو کے کاشتکاروں کو مشکلات سے نکلانے کے لیے وزیراعظم پاکستان سے رابطے میں ہیں۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ آلو اور کینو کے کاشتکاروں کی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ حکومت پنجاب زرعی ترقی اور کاشتکار کی خوشحالی کے لیے کھلے دل سے وسائل مہیا کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آلو اور کینو کی کی ایکسپورٹ کینو کے کے لیے
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ