بلاول کی مداخلت،ن لیگ اور پی پی کے اختلافات ختم ،معاملات حل
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
بلاول کی مداخلت،ن لیگ اور پی پی کے اختلافات ختم ،معاملات حل WhatsAppFacebookTwitter 0 13 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پالیمانی پارٹی کے اجلاس کی ورچوئل صدارت کی جس میں صدر کی منظوری کے بغیر آرڈیننس کے اجرا سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ راجہ پرویز اشرف نے ن لیگ سے اختلافات ختم ہونے کی تصدیق کردی۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں نوید قمر، اعجاز جاکھرانی، شہلا رضا،عبدالقادرپٹیل ، آغا رفیع اللہ،نازبلوچ،نوابزادہ افتخار،پرویزاشرف، شازیہ مری،قاسم گیلانی اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجلاس میں صدر کی منظوری کے بغیر آرڈیننس کے اجرا پر مشاورت کی گئی جبکہ اراکین نے ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز سے متعلق شکایات کیں۔ راجہ پرویز اشرف نے پاکستان پیپلزپارٹی اورن لیگ کے اختلاف ختم ہونے کی تصدیق کی۔راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی پارلیمانی پارٹی یکسوئی کیساتھ سسٹم کے ساتھ کھڑی ہے، پی ٹی آئی کا سیاسی مستقبل انہیں سے پوچھیں وہی بتا سکتیہیں، اتحادی ہیں اتحادی رہیں گیمجھے سسٹم میں تبدیلی نظرنہیں آرہی،حکومت نے آرڈیننس پر ہمارے واک آٹ کا نوٹس لیا،جو اچھی بات ہے، حکمران اتحاد میں مکمل یکجہتی کی فضا ہے، پیپلزپارٹی کا حکومتی اتحاد میں رہنا پاکستان کے مفاد میں ہے، پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو ملکی مفاد میں فیصلہ کرنے چاہئیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹرمپ کا ایران کیساتھ تجارت کرنیوالے ممالک پر بھاری ٹیرف کا اعلان ٹرمپ کا ایران کیساتھ تجارت کرنیوالے ممالک پر بھاری ٹیرف کا اعلان محمود خان اچکزئی کی بلامقابلہ اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ہو گئی پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں ،عمران خان ہی لیڈر ہے،گوہر خان وفاق نے متبادل راستوں سے کینو اور آلو برآمد کرنے کی اجازت دیدی ججز کے خلاف سوشل میڈیا مہم پر این سی سی آئی اے کو سخت نوٹس حکومت پاکستان اور جاپان کے درمیان گرانٹ معاہدے پر دستخطCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔