وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے مراکش کا سرکاری دورہ کیا، جس کے دوران پاکستان اور مراکش کے درمیان دفاعی تعاون کے حوالے سے ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

مزید پڑھیں: سربراہ پاک فضائیہ کی عراقی ایئر چیف سے ملاقات، مشترکہ تربیت اور دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

اعلامیہ کے مطابق یہ یادداشت دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دی گئی ہے۔

دورے کے دوران وزیر دفاع نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر وفود کی سطح پر مذاکرات کی قیادت بھی کی۔

اس موقع پر انہوں نے مملکت مراکش کے وزیر خارجہ و افریقی تعاون ناصر بوریتا اور مراکش میں مقیم پاکستانی تارکین وطن سے ملاقاتیں بھی کیں۔

ملاقاتوں سے قبل وفاقی وزیر دفاع نے کنگ محمد پنجم کے مزار پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور مزار کے مہمانوں کی کتاب میں دستخط کیے۔

مزید پڑھیں: پاک فضائیہ اور بنگلہ دیش ایئر فورس کے درمیان دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

وفاقی وزیر دفاع کے اس دورے کو پاکستان اور مراکش کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کی عکاسی قرار دیا گیا، جبکہ یہ دورہ دفاع، سلامتی اور دیگر مشترکہ مفاد کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی باہمی خواہش کا مظہر بھی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews خواجہ آصف دفاعی تعاون مراکش کا دورہ وزیر دفاع وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: خواجہ ا صف دفاعی تعاون مراکش کا دورہ وزیر دفاع وی نیوز دفاعی تعاون وزیر دفاع کے درمیان

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ