حکومت پاکستان اور جاپان کے درمیان گرانٹ معاہدے پر دستخط
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
حکومت پاکستان اور جاپان کے درمیان گرانٹ معاہدے پر دستخط ہوگئے۔
ترجمان وزارت اقتصادی امور کے مطابق جاپانی حکومت جنوبی پنجاب میں بچوں کی صحت کی دیکھ بھال کے لئے فنڈز فراہم کرے گی، جاپانی انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیگا) 2.91 ارب جاپانی ین (تقریباً 18.62 ملین ڈالر) گرانٹ دے گی۔
ترجمان اقتصادی امور نے بتایا کہ منصوبے کے تحت چلڈرن اسپتال اور انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ ملتان کو طبی سہولیات کے لحاظ سے اپگریڈ کیا جائے گا، آئی سی ایچ ملتان ریجن کا سب سے بڑا چائلڈ ٹرشری کیئر اسپتال ہے اس میں سہولیات کی فراہمی کو مزید موثر بنایا جائے گا۔
ترجمان کے مطابق ایکسچینج آف نوٹس پر پاکستان کی جانب سے سیکرٹری اقتصادی امور محمد حمیر کریم نے دستخط کئے، جاپان کی طرف پاکستان میں تعینات سفیر اکا ماتسو شوئچی نے ہوئے دستخط کیے۔
سیکرٹری اقتصادی امور محمد حمیر کریم نے کہا ہے کہ جاپانی حکومت اور عوام کی قیمتی معاونت کو سراہتے ہیں، منصوبے کے کامیاب نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی، دونوں ممالک کے درمیان مزید بامعنی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔
اس موقع پر جاپانی سفیر اکا ماتسو شوئچی نے کہا کہ حکومتِ پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھیں گے، دوستانہ تعلقات اور دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔