پیپلز پارٹی کا حکومتی اتحاد میں رہناپاکستان کے مفاد میں ہے: راجا پرویز اشرف
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
اسلام آباد: سابق وزیراعظم و پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما راجہ پرویزاشرف نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کاحکومتی اتحاد میں رہنا پاکستان کے مفاد میں ہے،حکومت کا آرڈیننس کے معاملے پر ہمارے واک آؤٹ کا نوٹس لینا اچھی بات ہے۔
پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی بلاول بھٹو زرداری نے بذریعہ زوم صدارت کی۔ ذرائع کے مطابق پی پی پارلیمانی اجلاس میں آرڈیننس کے معاملے پر پی پی مؤقف پر مشاورت کی گئی جبکہ اراکین نے ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز سے متعلق شکایات بھی کیں۔یہ بات انہو ںنے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکہی۔
راجہ پرویزاشرف کا کہنا تھاکہ حکومت نے آرڈیننس کے معاملے پر ہمارے واک آؤٹ کا نوٹس لیا اور یہ اچھی بات ہے۔ حکمران اتحاد میں مکمل یکجہتی کی فضا ہے، حکومتی اتحاد میں یکجہتی پاکستان کے مفاد میں ہے اور پیپلزپارٹی کاحکومتی اتحاد میں رہنا پاکستان کے مفاد میں ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو ملکی مفاد میں فیصلے کرنے چاہئیں، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کا معاملہ حل ہوجائے گا، پیپلزپارٹی اتحادی ہے پیپلزپارٹی کا اپوزیشن لیڈر نہیں ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل پاکستان کے مفاد میں ہے اتحاد میں
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔