اماراتی ٹرین سروس: چند ماہ میں آغاز متوقع، 11 شہروں اور علاقوں کو آپس میں منسلک کرےگی
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
متحدہ عرب امارات میں موجودہ سال قومی مسافر ریل نیٹ ورک کا آغاز ہونے جارہا ہے جو اماراتی ریاست کے 11 شہروں اور علاقوں کو آپس میں منسلک کردے گی۔
غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹرین سروس “ الاتحاد ریل” نیٹ ورک ابوظبی، دبئی، شارجہ اور فجیرہ کو آپس میں منسلک کرے گا جب کہ ابوظبی اور شارجہ کے دور دراز علاقوں تک بھی ریل سروس فراہم کرے گا۔
اتحاد ریل کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ ابوظبی کے مغربی علاقے الظفرہ اور شارجہ کے دور دراز صحرائی علاقوں تک ٹرین سروس مسافروں کو پہنچائے گی۔
ابوظبی کے ٹرین اسٹیشنز السلع — سعودی عرب کی سرحد کے قریب اور ابوظبی شہر سے تقریباً 350 کلومیٹر دور، الذہ — ساحلی شہر، ابوظبی سے تقریباً 250 کلومیٹر، المرفأ — ساحلی علاقہ جو ابوظبی سے تقریباً 230 کلومیٹر ہے۔
اسی طرح مدینۃ زاید — الظفرہ کا انتظامی مرکز، ابوظبی سے تقریباً 160 کلومیٹر، مزیرعہ — لیوا اویسس کے قریب جب کہ ابوظبی سے تقریباً 220 کلومیٹر، شارجہ کے اسٹیشنز سمیت الفایہ — اندرونی صحرائی علاقہ جو شارجہ شہر سے تقریباً 60–70 کلومیٹر اور الذید — زرعی شہر اور یہ بھی شارجہ شہر سے تقریباً 50 کلومیٹر دور ہے۔
یہ ریل سروس جدید سہولتوں سے لیس ہوگی جس میں انٹرنیٹ ( وائی فائی )، موبائل چارجر اور 400 مسافروں کی گنجائش ہوگی۔
اتحاد ریل سروس کے ذریعے شہروں کے درمیان سفر زیادہ تیز، محفوظ اور ٹریفک پر دباؤ کم ہونے کا امکان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔