Juraat:
2026-07-24@06:07:55 GMT

سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے!

اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT

سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے!

آج کل
۔۔۔۔۔
رفیق پٹیل

کراچی ،حیدرآباد،نوری آباد اور کوٹری میں خیبر پختون خواہ کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے دورے کے موقع پر جمع ہونے والے انتہائی پرجوش ہجوم میں شامل عوام کی بہت بڑی تعداد کی ایک ا ہم وجہ عوام کی موجودہ حکمرانوں کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار بھی تھا۔ جن کے بارے میں یہ تاثر پختہ شکل اختیا ر کر گیا ہے کہ وہ ان کے حقیقی نمائندے نہیں ہیں۔ حکمرانوں کی ناقص کارکردگی سے بھی عوام میں شدید بیزاری اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ پاکستان کے اندر حکمرانوں کے خلاف نفرت اور غصّے کو جنم لینے والے اس سیاسی لاوے سے حکمران ناواقف ہیں یااسے نظر انداز کر رہے ہیں یا پھر خواب غفلت میں ہیں۔ عوامی نفرت اور غصّے کا یہ لاوا پھٹ پڑا تو سب کو بہا کر لے جائے گا۔ اصل نشانہ حکمران ہونگے اس طرح کا ایک خدشہ موجود ہے جس کا اظہار بعض مبصّرین اور سیاستدان کرچکے ہیںکہ پاکستان میں اندر ہی اندر سری لنکا اور بنگلہ دیش سے زیادہ بدتر صورت حال ہے۔ پاکستان بھی اس طرح کے حالات کی جانب بڑھ رہا ہے۔
سہیل آفریدی کے دورے کے دوران ہر جگہ بڑے ہجوم پاکستان کی سیاست میں ایک انہونی ہے یا پھر ایک معجزہ ہے اس لیے کہ سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے ایک عام انسان ہے۔ سہیل آفریدی کو تین ماہ قبل پورے پاکستان میں کوئی نہیں جانتاتھا ۔خود خیبر پختون خواہ میں بھی وہ زیادہ شہرت نہیں رکھتے تھے لیکن جیسے ہی بانی تحریک انصاف نے انہیں وزیر اعلیٰ کے لیے نامزد کیا اور سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ بانی تحریک انصاف کے عشق میں جان قربان کردیں گے، انہیں ملک گیر شہرت مل گئی۔ سب سے بڑی انہونی مزار قائد کے قریب جلسہ تھا جو ہر قسم کی رکاوٹوں کے باوجود کامیاب ہوگیا ۔سیاست کا گہرائی سے جائزہ لینے والے یہ سمجھ سکتے ہیں کہ جب پولیس اسٹیج اٹھا کر لے گئی کرسیاں اٹھا کر لے گئی۔ مزار قائد کو جانے والے تمام راستے بند کردیے گئے ،وہاں پہنچنے والے لوگوں پر آنسو گیس پھینکی گئی، لاٹھی چارج کیا گیا ، اس دوران اندرون خانہ بات بھی ہوئی ہوگی جس کی وجہ سے یہ سلسلہ رک گیا ،جلسہ گاہ ایک خالی میدان تھا کرسیاں اسٹیج بجلی اور سائونڈ سسٹم نہیں تھا۔ جلسہ کرنا ناممکن تھا ایسے میں جلسے میں لوگوں کی موجودگی ان کا جوش اور رات تقریباً گیارہ بجے تک سہیل آفریدی کا انتظار حیرت انگیز تھا۔ جلسہ کے مقام کے اطراف میں جلسہ کے مقابلے میں زیادہ لوگ تھے بعض لوگوں کو یہ بھی شایدڈر تھاکہ پولیس دوبارہ حملہ آور ہوگی۔ دوسری جانب کراچی کے مختلف علاقوں میں گاڑیوں اور موٹر سا ئیکلوں پر تحریک انصاف کے جھنڈے لگا کر نوجوان ٹولیوں میں گشت کررہے تھے۔ سہیل آفریدی کیماڑی ،بلدیہ ٹائون اور گولیمار ہوتے ہوئے سات گھنٹے میں جلسہ گاہ پہنچے اور راستے میںبڑے اجتماعات سے خطاب کیا ۔ان کی تقریر کا ایک جملہ کہ سندھ حکومت نے اجرک اور سندھی ٹوپی کی بے حرمتی کی ہے۔ پی پی کے تیزرفتا ر زوال میں مزید تیزی کا باعث بن سکتاہے۔ حکمران سیاستدان اس بات پر بھی حیران ہے کہ یہ کیسا انسان ہے جو شان و شوکت سے دور بھاگتا ہے ۔پروٹوکول کو پسند نہیں کرتا ۔عام لوگوں کے ساتھ اکانومی کلاس میں سفر کرتا ہے۔ دولت کی خواہش نہیں رکھتا ۔عام لوگوں میں اپنی سیکوریٹی کی پرواہ کیے بغیر گھل مل جاتاہے۔
حکمراں اتحاد اور ان کے مفادات سے منسلک دیگر افراد اس ایک سچ کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے آج شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ وہ سچ یہ تھا کہ عمران خان مارچ دو ہزار بائیس میں اپنی مقبولیت کھورہے تھے لیکن اس کے چند روز بعد اپریل میں پی ٹی آئی کی حکومت کا خاتمہ ہوا ۔ان کی مقبولیت میں ضافے کاسلسلہ شروع ہوگیا ۔اگر عین اس موقع پر انتخابات ہوجاتے تو عمران خان شکست سے دوچار ہوتے یا اگر کامیاب بھی ہوجاتے تو ان کی انتہائی کمزور حکومت ہوتی۔ وہ مزید غیر مقبول ہوجاتے ۔سچ یہ ہے کہ انتظامی طاقت اور غیر سیاسی طریقہ کار کے ذریعے عمران خان کا مقابلہ کرنے سے بانی تحریک انصاف کی مقبولیت میں اضافہ ہو ا۔ گرفتاری سے مزید منفی اثرات ہوئے ۔گرفتاری کے بعد سے اب تک تیز رفتاری سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے۔ اگر وہ گرفتار نہ ہوتے تو وہ اتنے مقبول نہ ہوتے۔ اب ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا یہ سلسلہ مزید بڑھتا چلا جا رہاہے۔ پرانے کارکنوں کی جگہ نئے کارکنوں کی فوج بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔ فر وری 2024 کے انتخابات سے قبل تحریک انصاف کا انتخابی نشان بلّا ان سے لے لیاگیا تھا۔ اس طرح پارلیمنٹ میں وہ آزاد حیثیت میں ہیں۔ خیبر پختون خواہ میں بھی پی ٹی آئی کی نہیں بلکہ آزاد ارکان کی حکومت ہے۔ دوسرے معنوں میں پی ٹی آئی پر غیراعلانیہ پابندی عائد ہے۔
حکومت کی دوسری بڑی غلطی آئینی ترامیم اور دیگر اقدامات کے ذریعے کمزور جمہوری نظا م کو تہس نہس کرنا تھا۔اس حقیقت کے باوجود کہ عوام کی بہت بڑی تعداد بانی پی ٹی آئی کی اندھی چاہت اور محبت میں کسی نہ کسی وجہ سے مبتلا ہے اور ان کی آزادی چاہتے ہیں ۔بدلے ہوئے حالات میں وہ ان کی کسی ڈیل کو ماننے کو انکا ر کر سکتے ہیں ۔برسراقتدار جماعتوں،زرداری ،شریف خاندان اور ایم کیوایم کی خواہش ہے کہ موجودہ حکومت کو چیلنج نہ کیا جائے۔ بانی پی ٹی آئی کوئی بیان نہ دیں ۔یہی وجہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھ کر ان سے یہ منوانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ خاموش ہوجائیں اور موجودہ برسر اقتدار جماعتوں کی مخالفت نہ کریں یا اس مخالفت کو محدود کردیں۔ اس وقت وہ قید میں ہیں ان پر دبائو ڈالنے کی تما م سہولتیں حکومت کے پاس موجود ہیں۔پاکستان میں عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ اگر کسی کو قید کر لیا جائے تو اس پر دبائو ڈال کر ہر بات منوائی جاسکتی ہے ۔اسی طرح اگر حکومت بانی پی ٹی آئی قید تنہائی یا دیگر حربوں سے خاموش کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتی ہے یا ان سے موجودہ حکومت کی محدود مخالفت کا راضی نامہ (ڈیل)کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو ایسی صورت میں عوام فوراًاس تبدیلی کو محسوس کرسکتے ہیں اور بانی پی ٹی آئی کی بات ماننے سے انکا ر کر سکتے ہیں ۔ پاکستان کے عوام کے اپنے مسائل ہیں۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہے کہ ان کے مسائل کون حل کر ے گا۔وہ اس جماعت کا ساتھ دیں گے جو ان کے بنیا دی مسائل حل کرے گا ۔یہ مسائل صرف ناقص حکمرانی کے خاتمے اور اچھی اور معیاری حکمرانی سے ہی حل ہو سکتے ہیں۔عوام کا اولین مسئلہ تحفظ ہے۔ سڑکوں اور گلیوں میں جب لوگوں کی جان مال محفوظ نہ ہو ان کو گاڑی چھینے جانے ،ڈاکہ زنی، موٹر سائیکل چھینے جانے اور رقم چھینے جانے کا خوف ہو ،دوسری طرف حکومت کے عہدیداروں کے تحفظ کے لیے سیکوریٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد اد ،گاڑیاں اور پروٹوکول کی لمبی قطار ہو، عدلیہ آزاد نہ ہو ،پارلیمنٹ نمائندہ نہ ہو ،میڈیا سرکاری موقف پیش کررہا ہو تو عوام میں اس کا منفی ردًعمل ہوتا ہے ۔ دوسری جانب جب عوام کو ہر قسم کے سرکاری کاموں میں اکثر مقامات پر رشوت دینی پرتی ہو،خصوصاً کاروبار کرنے والے افراد اور صنعتکاروں کے لیے اس طرح کی رکاوٹیں ہوں، روزگار کے مواقع کم ہوجائیں۔ عام اشیاء کی قیمتیں بڑھ جائیں،بجلی ،گیس اور پیٹرول کی قیمتیں زیادہ ہوں، ایسی صورت میں لوگوں کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہو جاتی ہے ۔موجودہ دور میں لوگوں کو بے وقوف سمجھنا عقل و دانش کے خلاف ہے اور اُنہیں محض بے بنیاد دعوؤں اور بے معنی بیانات کے ذریعے اپنا حامی نہیں بنایا جا سکتا ہے۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی پی ٹی آئی کی سہیل آفریدی تحریک انصاف سکتے ہیں جاتی ہے کے لیے

پڑھیں:

دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔

فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔

فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔

انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

 

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار