دھند کی شدت برقرار، موٹریز آج بھی کئی مقامات سے ٹریفک کیلئے بند
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) شدید دھند کے باعث حدِ نگاہ متاثر ہونے پر پنجاب کے مختلف حصوں میں موٹرویز اور اہم شاہراہیں ٹریفک کیلئے بند کر دی گئیں۔
ترجمان موٹروے پولیس سینٹرل ریجن کے مطابق عوام کی جان و مال کے تحفظ کے پیش نظر موٹرویز پر مختلف جگہوں سے ٹریفک کی روانی معطل کر دی گئی ہے، موٹروے ایم 2 لاہور تا کوٹ مومن شدید دھند کے باعث بند کر دی گئی۔
اسی طرح موٹروے ایم 3 فیض پور تا درخانہ، ایم 4 پنڈی بھٹیاں تا ملتان اور ایم 5 ملتان تا ظاہر پیر دھند کے باعث ٹریفک کیلئے بند کر دی گئیں، علاوہ ازیں موٹروے ایم 11 لاہور تا سمبڑیال اور لاہور ایسٹرن بائی پاس بھی دھند کی وجہ سے بند ہیں۔
موٹروے پولیس کے مطابق قومی شاہراہ پر لاہور، مانگا منڈی، پتوکی، اوکاڑہ، ساہیوال، کسوال اور اقبال نگر میں شدید دھند چھائی ہوئی ہے، جبکہ میاں چنوں، خانیوال، ملتان، لودھراں اور بہاولپور کے علاقوں میں بھی حدِ نگاہ انتہائی کم ہے، بعض مقامات پر حد نگاہ 0 سے 100 میٹر تک محدود ہو چکی ہے جو انتہائی خطرناک ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ دھند کے دوران لین کی خلاف ورزی اور تیز رفتاری جان لیوا حادثات کا سبب بن سکتی ہے، انہوں نے روڈ یوزرز کو سختی سے لین ڈسپلن پر عمل کرنے، غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور دن کے اوقات میں سفر کو ترجیح دینے کی ہدایت کی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دھند میں محفوظ سفری اوقات صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک ہیں، ڈرائیور حضرات فوگ لائٹس کا لازمی استعمال کریں، آگے والی گاڑی سے محفوظ فاصلہ رکھیں اور رفتار کم رکھیں، کسی بھی رہنمائی یا مدد کیلئے شہری موٹروے پولیس کی ہیلپ لائن 130 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز