حکومت کوششیں، کراس سبسڈی 225 ارب سے 102 ارب پر آگئی، پاور ڈویژن
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
موجودہ حکومت کی کوششوں سے انڈسٹری سے منسلک کراس سبسڈی میں اب تک 123 ارب روپے کی کمی ہوگئی۔
پاور ڈویژن کے مطابق موجودہ حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد کراس سبسڈی کا بوجھ 123 ارب روپے کم ہو گیا، جو 225 ارب روپے سے کم ہوکر 102 ارب روپے رہ گئی۔
پاور ڈویژن کے مطابق کراس سبسڈی کا یہ بوجھ 8 روپے 90 پیسے سے کم ہو کر 4 روپے 2 پیسے پر آ گیا، کراس سبسڈی میں ایک سیکٹر کی بجلی سستی کرنے کےلیے بوجھ دوسرے سیکٹر پر ڈال دیا جاتا ہے۔
موجودہ حکومت کے دور میں ٹیکسوں سمیت صنعتی نرخ 62 اعشاریہ 99 روپے سے کم ہو کر 46 اعشاریہ31 روپے پر آگئے ہیں، فی یونٹ بجلی کی قیمت 53 اعشاریہ 04 روپے سے کم ہوکر 42 اعشاریہ27 روپے ہوگئی ہے۔
حکومت نے ناکارہ پاور پلانٹس بند اور آئی پی پیز کے ساتھ کامیاب مذاکرات و معاہدے کیے، ان اقدامات کی بدولت ملک میں بجلی کی قیمت میں کمی آئی ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق حکومت نے 3 سال کے لیے اضافی بجلی کی کھپت پر 22 اعشاریہ 98 روپے فی یونٹ کا پیکیج دیا ہے۔
حکومت نے سرکلر ڈیٹ کو ختم کرنے کے پلان پر کام شروع کر رکھا ہے، سرکلر ڈیٹ کے خاتمے پر عوام کو فی یونٹ 3 اعشاریہ 23 روپے کا ریلیف ملے گا۔
بیان کے مطابق آف گرڈ سولر صارفین کی وجہ سے پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد دگنی ہوکر 22 ملین ہوگئی ہے، پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد میں اضافے سے پاور سیکٹر پر بوجھ پڑا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پاور ڈویژن کراس سبسڈی ارب روپے کے مطابق
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔