کراچی کے مختلف علاقوں میں شدید دُھند کے باعث حدِ نگاہ 50 میٹر ہونے سے موٹروے ایم نائن پر گاڑیوں کی آمدورفت اور کراچی ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن بھی متاثر ہوا جبکہ کئی پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔

تفصیلات کے مطابق صبح سویرے شہر کے مختلف علاقوں سرجانی ٹاؤن، گلستان جوہر، گلزار ہجری اسکیم 33، جامعتہ الرشید احسن آباد، ڈی ایچ اے فیز 8، کراچی ایئرپورٹ، ملیر اور گلشن حدید میں شدید دھند دیکھی گئی۔

کراچی میں رواں موسم سرما کے دوران دوسری بار شدید دھند دیکھی گئی۔ اس سے قبل 21 دسمبر 2025 کو صبح سویرے شدید دھند کے باعث حد نگاہ صدر ریکارڈ کی گئی تھی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق صبح کے وقت ہوا میں نمی کا تناسب 95 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جس کے سبب شہر کے مختلف علاقوں میں شدید دھند کی صورتحال پیدا ہوئی۔

کراچی میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم سرد اور خُشک رہے گا جبکہ آج رات اور کل صبح بھی شہر میں دُھند کا امکان ہے۔

شہر میں آج کم سے کم درجہ حرارت 12.

5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا جبکہ کل کم سے کم درجہ حرارت 11 سے 13 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔

گزشتہ روز زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 26.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا جبکہ آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 25 سے 27 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی توقع ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق مختلف سمت سے 5 تا 20 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں متوقع ہیں، آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ہوا میں نمی کا تناسب 50 سے 95 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

ایم نائن پر شدید دھند

ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق موٹروے ایم نائن پر کراچی سے ڈی ایچ اے سٹی تک شدید دُھند کے باعث حدِ نگاہ شدید متاثر ہوئی۔

موٹروے پولیس نے ہدایت کی کہ دُھند کے دوران گاڑی کی رفتار کم رکھیں اور فوگ لائٹس کا استعمال کریں۔ اگلی گاڑی سے محفوظ فاصلہ رکھیں، اوورٹیکنگ سے اجتناب کریں اور لین کی پابندی کریں۔

مزید پڑھیں

کراچی میں صبح سویرے شدید دھند کا راج، حد نگاہ صفر ریکارڈ

کراچی میں شدید دھند پڑنے اور حد نگاہ صفر ریکارڈ ہونے کا امکان

ترجمان کے مطابق کسی بھی ایمرجنسی یا مدد کی صورت میں موٹروے پولیس ہیلپ لائن 130 پر رابطہ کریں۔

فلائٹ آپریش متاثر

کراچی ایئرپورٹ اور اطراف میں شدید دھند کے سبب فلائٹ آپریشن بھی جزوی طور پر متاثر رہا۔

ایئرپورٹ پر آمدورفت کی حامل 10 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں، نجی اور ملکی پروازوں میں کچھ شام کے لیے ری شیڈول کر دی گئیں۔

پی آئی اے کی صبح 8 بجے کراچی سے لاہور کی پرواز پی کے 302 جبکہ غیر ملکی ایئرلائنز کی کراچی سے جدہ اور ریاض کی پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔

قطر ایئر ویز کی صبح 9 بجے کی پرواز تاخیر کا شکار ہوئی جسے اب شام ساڑھے 4 بجے شیڈول کیا گیا ہے۔ فلائی دبئی کی کراچی سے دبئی کی پرواز اور سعودی ایئر کی کراچی سے جدہ کی پرواز تاخیر کا شکار ہے۔

نجی ملکی ایئر لائن کی کراچی سے لاہور اور فیصل آباد کی پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں جبکہ ایئر سیال کی کراچی سے لاہور اور پشاور کی پرواز تاخیر کا شکار ہوئی۔

پروازیں منسوخ

کراچی ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن متاثر ہونے کے سبب 6 پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔

کراچی سے بیجنگ، ایئر چائنا کی پرواز سی اے 946 اور کراچی سے کوالالمپور ایئر ایشیا ایکس کی پرواز ڈی سیون 109 منسوخ کر دی گئی۔

کراچی سے اسلام آباد ایئر سیال کی پرواز پی ایف 123، کراچی سے لاہور ایئر سیال کی پرواز پی ایف 145، کراچی سے اسلام آباد ایئر بلیو کی پرواز پی اے 206 اور کراچی سے لاہور ایئر بلیو کی پرواز پی اے 404 منسوخ کی گئی۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تاخیر کا شکار ہوئی ڈگری سینٹی گریڈ کراچی ایئرپورٹ کراچی سے لاہور پروازیں منسوخ کی پرواز پی کی کراچی سے کراچی میں کا امکان کے مطابق کے دوران ھند کے

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟