کراچی: چوری میں ملوث گھریلو ملازماؤں کا منظم گینگ پکڑا گیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
کراچی میں پولیس نے فیروز آباد کے علاقے سے چوری میں ملوث گھریلو ملازماؤں کے منظم گینگ کو گرفتار کرلیا۔
ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر شیخ کا کہنا ہے کہ صنعتکار کے گھر میں 9 سال سے کام کرنے والی 5 ملازمائیں چوری میں ملوث ہیں۔ گینگ کی سرغنہ عروج نے لاکر کی چابی چرا کر 3 ہزار روپے میں ڈپلیکیٹ بنوائی۔
ایس ایس پی ایسٹ کے مطابق ملازماؤں سے لاکھوں روپے اور موبائل فونز برآمد کیے گئے ہیں، خواتین ملزمان نے چوری کی رقم سے گھر، گاڑی، موٹر سائیکل اور دیگر قیمتی اشیاء خریدنے کا انکشاف کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملازماؤں کا تعلق وہاڑی، اوکاڑہ، فیصل آباد، رحیم یار خان اور کوٹ ادو سے ہے، گرفتار ملزماؤں سے مزید تفتیش کی جارہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک