پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں کی مشترکہ کوشش کامیاب، 12 ارب روپے کے USF فنڈز بحال
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
حکومتِ پاکستان اور حکومتِ آزاد جموں و کشمیر کے درمیان مؤثر اور مسلسل ادارہ جاتی ہم آہنگی کے نتیجے میں یونیورسل سروس فنڈ (USF) کے 12 ارب روپے عوامی فلاح کے لیے بحال کر دیے گئے ہیں۔
یہ فنڈز بنیادی سہولیات، بالخصوص دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں ٹیلی کمیونی کیشن اور دیگر ضروری خدمات کی بہتری کے لیے مختص کیے گئے تھے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بعض عناصر کی جانب سے اشتعال انگیز بیانیوں اور احتجاجی سیاست کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ تاہم ریاستی اداروں کی مربوط حکمت عملی اور عوامی ضروریات پر توجہ نے ان کوششوں کو مؤثر طور پر ناکام بنا دیا۔
ادارہ جاتی ہم آہنگی، شفافیت اور اعتمادذرائع کے مطابق، دونوں حکومتوں کے درمیان مربوط رابطے، انتظامی تسلسل اور عوامی دباؤ کے نتیجے میں یہ فنڈز دوبارہ حاصل کیے گئے، جو شفاف طرزِ حکمرانی اور ریاستی جوابدہی کا عملی ثبوت ہیں۔
بحال شدہ فنڈز کے ذریعے آزاد کشمیر کے پسماندہ علاقوں میں سماجی و معاشی شمولیت کو فروغ دیا جائے گا، جس سے عوامی خدمات کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
ترقیاتی منصوبے اور علاقائی فوائدان فنڈز سے خاص طور پر نیلم، جہلم اور حویلی جیسے علاقوں میں ٹیلی کمیونی کیشن اور بنیادی سہولیات کو بہتر بنانے کے منصوبے شروع کیے جائیں گے، جو مقامی آبادی کے لیے روزمرہ زندگی میں آسانی اور معاشی مواقع پیدا کریں گے۔
یہ اقدام اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ منظم حکمرانی اور ادارہ جاتی حل ہی عوامی مسائل کا دیرپا حل ہیں، نہ کہ احتجاج اور خلفشار۔ پاکستان کی جانب سے آزاد کشمیر کی سیاسی، سماجی اور معاشی استحکام کے لیے وابستگی ایک بار پھر واضح ہو گئی ہے، جو قومی یکجہتی کو مزید مضبوط بناتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد کشمیر حکومت حکومت پاکستان یونیورسل سروس فنڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا زاد کشمیر حکومت حکومت پاکستان یونیورسل سروس فنڈ کے لیے
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔