خیبر پختونخوا و گلگت بلتستان میں شدید سردی، استور میں پارہ منفی 22 ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
پشاور/ گلگت:
خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے بالائی علاقوں میں شدید سردی کے باعث درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گر گیا، گلگت بلتستان کے علاقے استور میں درجہ حرارت پارہ منفی 22 تک گر گیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق استور میں درجہ حرارت منفی 22، اسکردو میں منفی 15، گوپس میں منفی 14 اور گلگلت میں منفی 11 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
خیبر پختونخوا میں کالام اور پارا چنار میں منفی 4، دیر بالا میں منفی 2 اور دروس چترال میں منفی ایک ریکارڈ کیا گیا۔ سدو سوات اور تیمرگرہ میں درجہ حرارت صفر ریکارڈ کیا گیا جبکہ پشاور کا درجہ حرارت دو ریکارڈ کیا گیا۔
مزید پڑھیںملک میں آئندہ ہفتے بارش اور برفباری کا امکان، شدید سردی کی لہر کا الرٹ بھی جاری
محکمہ موسمیات کے مطابق صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم خشک اور بہت سرد رہنے جبکہ بالائی و پہاڑی اضلاع میں شدید سرد رہنے کا امکان ہے۔ ضلع چترال کے بالائی و زیریں، بالائی دیر اور ملحقہ علاقوں میں چند ایک مقامات پر بارش اور اونچے پہاڑوں برفباری کا امکان ہے۔
صوبے کے میدانی علاقوں پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، مردان، صوابی، کرک، بنوں اور لکی مروت میں دھند رہنے کا امکان ہے۔ ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان خاص طور پر موٹر وے ایم ون، نیشنل ہائی وے اور جی ٹی روڈ پر صبح سویرے اور رات کے اوقات میں دھند چھائے رہنے کا امکان ہے۔
صوبے کے بعض بالائی اور میدانی علاقوں میں صبح سویرے اور رات کے اوقات میں کہرا پڑنے کا بھی امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ریکارڈ کیا گیا کا امکان ہے میں منفی
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔