اسلام آباد میں شادی والے گھرسلنڈر دھماکا؛ جاں بحق افراد کے لواحقین، زخمیوں کیلیے مالی امدادکا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون میں گیس لیکیج کے باعث ہونے والے افسوسناک دھماکے کے بعد وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف متاثرہ گھروں میں پہنچ گئے اور متاثرین سے ملاقات کی۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واقعے کو ایک بڑا صدمہ اور قومی المیہ قرار دیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ واقعہ نہایت دلخراش ہے، ایک خوشی کا موقع غم میں تبدیل ہوگیا، جس پر ہمیں دلی افسوس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان سے قبل ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور چیئرمین سی ڈی اے بھی متاثرہ علاقے کا دورہ کر چکے ہیں۔
سردار یوسف نے کہا کہ متاثرہ علاقے میں رہنے والی کرسچن کمیونٹی ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہے اور حکومت اس دکھ کی گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وزارت مذہبی امور کے تمام متعلقہ افسران متاثرین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ گیس لیکیج کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو پانچ، پانچ لاکھ روپے جبکہ زخمی افراد کو وزارت مذہبی امور کی جانب سے 50 ہزار روپے فی کس امداد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ واقعے کی مکمل تفصیلات وزیر اعظم تک پہنچائی جائیں گی اور متعلقہ ادارے اپنی رپورٹس پیش کریں گے۔ سردار یوسف کے مطابق متاثرہ علاقے کی بڑی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے ری کنسٹرکشن کی ضرورت ہے، جس کے لیے حکومت مناسب ہدایات جاری کرے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ان کا دورے کا مقصد خود موقع پر جا کر حالات کا جائزہ لینا اور متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کرنا تھا، حکومت اس ناگہانی آفت میں متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔