پاکستان میں ادویات اور طبی آلات کی برآمدات میں اضافہ،ڈریپ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
پاکستان میں ادویات اور طبی آلات کی برآمدات میں اضافہ،ڈریپ WhatsAppFacebookTwitter 0 15 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس ) پاکستان میں ادویات اور طبی آلات کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ادویات اور میڈیکل ڈیوائسز کی برآمدات میں 34 فیصد اضافہ ہوا ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ڈریپ کے مطابق مثر ریگولیٹری نظام اور اصلاحات کے ذریعے اربوں روپے کی بچت ممکن بنائی گئی جس کا براہِ راست فائدہ عوام تک پہنچا ہے، ادارے نے اپنے ریگولیٹری امور کا تقریبا 70 فیصد حصہ ڈیجیٹل کر دیا ہے
مارچ 2026 تک سو فیصد ڈیجیٹلائزیشن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔آن لائن میڈیکل ڈیوائسز رجسٹریشن سسٹم اور ای۔آفس جیسے اقدامات سے انسانی غلطیوں اور تاخیر میں واضح کمی آئی ہے جبکہ نظام میں شفافیت کو بھی فروغ ملا ہے۔رپورٹ کے مطابق برآمدات کے فروغ کے لیے سرٹیفکیشن کے اجرا کے دورانیے میں نمایاں کمی کی گئی ہے، ادویات کی برآمدی رجسٹریشن کا دورانیہ 60 دن سے کم ہو کر 10 دن رہ گیا ہے جبکہ FSC اور CoPP جیسے سرٹیفکیٹس 30 دن کے بجائے صرف 5 دن میں جاری کیے جا رہے ہیں۔
میڈیکل ڈیوائسز کی رجسٹریشن کا دورانیہ بھی کم ہو کر تقریبا 20 دن رہ گیا ہے، ون ونڈو سہولت اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے ذریعے پاکستان کو دواسازی کے شعبے میں خود کفیل بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ڈریپ کے مطابق قومی ویکسین پالیسی کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے جبکہ مقامی سطح پر اے پی آئی (API) کی تیاری کے لیے روڈمیپ پر بھی کام جاری ہے، ادارے نے اصلاحات کے مثبت نتائج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دواسازی کی برآمدات میں 34 فیصد اضافہ ملکی معیشت کے لیے حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایئرپورٹس سے ڈی پورٹ ہونے والے 4 ہزار افراد کی انکوائریز مکمل ایئرپورٹس سے ڈی پورٹ ہونے والے 4 ہزار افراد کی انکوائریز مکمل نواز شریف نے سٹیٹ لانج علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا افتتاح کردیا سی ڈی اے کا بحریہ ٹائون کو نوٹس، بحریہ پیراڈئز کمرشل اپارٹمنٹس پراجیکٹ ختم کرنے کا حکم،دستاویزات سب نیوز پر سوسائیٹز کی جانب سے پبلک بلڈنگز ایریا لیز پر دینے پر پابندی عائد،سی ڈی اے کا نوٹس جاری،تفصیلات سب نیوز پر جوڈیشل کمیشن ، لاہور ہائیکورٹ کے 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظور ی ایران پر امریکی حملے کے قوی امکانات، خطہ ہائی الرٹ پر، میڈیا رپورٹسCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کی برآمدات میں ادویات اور
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔