اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو کئی ماہ کی بلند ترین سطح سے کمی دیکھنے میں آئی جبکہ سونا بھی اپنی تاریخی بلند ترین سطح سے نیچے آ گیا۔

تفصیلات کے مطابق برینٹ کروڈ فیوچرز 3.4 فیصد کمی کے بعد 64.25 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی نائمیکس کروڈ 3.4 فیصد گر کر 59.89 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ گزشتہ سیشن میں یہ بالترتیب 66.

82 اور 62.36 ڈالر تک پہنچ گئے تھے۔

یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی سے متعلق مارکیٹ میں پائی جانے والی بے چینی کم کرنے کی کوشش کی۔

امریکی وال اسٹریٹ میں کمی کے بعد ایشیائی منڈیوں میں بھی ٹیکنالوجی شیئرز کی فروخت کا دباؤ برقرار رہا۔ سرمایہ کار تیزی سے بڑھنے والے چِپ اور مصنوعی ذہانت سے جڑے اسٹاکس سے نکل کر دیگر شعبوں میں مواقع تلاش کرتے نظر آئے۔

کرنسی مارکیٹ میں بھی وقتی وقفہ دیکھا گیا، جہاں جاپانی ین امریکی ڈالر کے مقابلے میں جولائی 2024 کے بعد کمزور ترین سطح پر پہنچنے کے بعد حکومتی مداخلت کے خدشات پر تیزی سے سنبھل گیا۔

جاپان میں حکومتی قبل از وقت انتخابات کی قیاس آرائیوں، جن کی بعد میں تصدیق ہو گئی، کے باعث بانڈ ییلڈز میں اضافے کے بعد جمعرات کو کچھ کمی آئی۔ توقع ہے کہ انتخابات کی صورت میں بڑے مالیاتی پیکج متعارف کرائے جائیں گے۔

صدر ٹرمپ نے بدھ کی سہ پہر کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ ایران میں جاری مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران ہلاکتوں میں کمی آ رہی ہے اور اس وقت بڑے پیمانے پر سزائے موت کا کوئی منصوبہ نہیں۔

سونے کی قیمت 0.5 فیصد کمی کے ساتھ تقریباً 4 ہزار 598 ڈالر فی اونس پر آ گئی، جبکہ بدھ کو یہ ریکارڈ 4 ہزار 642.72 ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔

ایشیا کی اسٹاک مارکیٹوں میں ملا جلا رجحان رہا، تاہم ٹیکنالوجی شیئرز پر دباؤ برقرار رہا۔ جاپان میں نکی انڈیکس 0.9 فیصد کم ہوا، جبکہ ٹاپکس انڈیکس نے 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ نئی ریکارڈ سطح قائم کی۔

ادھر امریکی ڈالر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم رہا، ڈالر انڈیکس معمولی اضافے کے ساتھ 99.137 پر رہا۔ جاپانی ین 158.44 فی ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا، جو بدھ کو 159.45 تک کمزور ہوا تھا۔

جاپانی وزیرِ خزانہ ساتسوکی کاتایاما نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ غیر معمولی زرِ مبادلہ کی حرکات کے خلاف تمام آپشنز استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

جاپان کے 20 سالہ بانڈ کی ییلڈ جمعرات کو 2.5 بیسس پوائنٹس کمی کے بعد 3.135 فیصد پر آ گئی، جو گزشتہ سیشن میں ریکارڈ 3.165 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔

حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار