ایرانی حملے کا خدشہ، امریکا اور برطانیہ نے قطر سے فوجی دستے واپس بلانا شروع کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے خدشات کے پیشِ نظر امریکا اور برطانیہ نے قطر میں واقع العدید ایئر بیس سے اپنے فوجی دستوں اور غیر ضروری عملے کو مرحلہ وار واپس بلانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جاری احتجاجی صورتحال کے باعث احتیاطی تدابیر کے طور پر قطر میں اپنی فوجی موجودگی کم کرنا شروع کر دی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق العدید ایئر بیس سے غیر ضروری عملے کو نکالا جا رہا ہے تاکہ کسی ممکنہ حملے اور جوابی کارروائی کی صورت میں نقصانات سے بچا جا سکے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین کے نام ایک سوشل میڈیا پیغام میں کہا ہے کہ مدد راستے میں ہے، جب کہ انہوں نے ایران کے خلاف سخت اقدامات پر بھی غور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق حالیہ دنوں میں ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد ہلاک اور گرفتار ہو چکے ہیں۔
امریکی حکام نے خطے میں موجود اپنے شہریوں کو بھی احتیاط برتنے اور فوجی تنصیبات کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔ العدید ایئر بیس سے نکالے گئے فوجیوں کو خطے کے دیگر مقامات یا ہوٹلوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو وہ امریکی فوجی اڈوں اور بحری مفادات کو نشانہ بنا سکتا ہے، تاہم امریکی صدر کے مطابق تہران مذاکرات پر بھی آمادگی ظاہر کر رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔