کراچی (نیوزڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کےچیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےکہا ہےکہ ماضی میں ہمیں امن و امان اور دہشتگردی کی سنگین صورتحال کاسامنارہا، 2008میں پیپلزپارٹی کی حکومت کےدوران روزانہ کی بنیاد پربم دھماکوں اور دہشتگرد حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

سندھ حکومت کی کارکردگی اور آئندہ کی حکمت عملی کےحوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہاسندھ حکومت تمام شعبوں کی بہتری کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے، خاص طور پر صحت اور تعلیم کے شعبوں پرخصوصی توجہ دی جا رہی ہے،صحت کی سہولیات ہر شہری کا بنیادی حق ہیں۔

بلاول بھٹو نےکہا 18ویں آئینی ترمیم کےبعد جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) صوبے کےحوالےکیاگیا۔ 2012 میں جےپی ایم سی میں 1100 بیڈز تھےجو اب بڑھکر 2208 بیڈز تک پہنچ چکے ہیں، مہنگا ترین علاج بھی غریب شہریوں کو مفت فراہم کیا جا رہا ہے،2020 میں فوڈ کمپلیکس کا دائرہ کار بڑھایا گیا،جہاں روزانہ 500 افراد کو کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کاکہنا تھاکہ صوبے میں این آئی سی وی ڈی کے طرز پر 11 اسپتال قائم کیے گئے ہیں، سندھ میں تعلیم کے شعبے میں بھی نمایاں اقدامات کیے گئے ہیں،2008 تک سندھ میں صرف 10 جامعات تھیں،جبکہ 2017 میں گمبٹ کالج قائم کیا گیا جو اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بلاول بھٹو

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن