طالبان قیادت میں اندرونی تصادم: کابل بمقابلہ قندھار طاقت کی جنگ سامنے آگئی WhatsAppFacebookTwitter 0 15 January, 2026 سب نیوز

کابل(آئی پی ایس )اس کے برعکس کابل میں موجود دھڑا نسبتا عملیت پسند سمجھا جاتا ہے جس میں وزیر داخلہ سراج الدین حقانی، وزیر دفاع ملا یعقوب اور نائب وزیراعظم عبدالغنی برادر جیسے طاقتور رہنما شامل ہیں۔ یہ گروہ افغانستان کے لیے خلیجی ریاستوں جیسا ماڈل چاہتا ہے جو اسلامی شناخت کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر فعال ہو اور عالمی برادری سے تعلقات رکھتا ہو, ان رہنما ئوں کا ماننا ہے کہ تجارت، سفارت کاری اور ریاستی نظم و نسق کے بغیر ملک چلانا ممکن نہیں یہی وجہ ہے کہ یہ گروہ جدید ٹیکنالوجی اور محدود دائرے میں لڑکیوں کی تعلیم کی حمایت بھی کرتا ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہیبت اللہ اخوندزادہ کا کردار وقت کے ساتھ نمایاں طور پر بدل چکا ہے۔ 2016 میں انہیں ایک ایسے مذہبی عالم کے طور پر منتخب کیا گیا تھا جو مختلف دھڑوں کے درمیان اتفاق پیدا کر سکیں، مگر اقتدار میں آنے کے بعد وہ ایک آمر حکمران بن گئے۔ رپورٹ میں ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ وہ اجلاسوں میں کم ہی بولتے ہیں، عوام میں چہرہ چھپاتے ہیں، انہوں نے سراج حقانی اور ملا برادر جیسے بااثر رہنما ئوں کو آہستہ آہستہ اختیارات سے محروم کیا اور خواتین کی تعلیم جیسے فیصلے کابل کابینہ سے مشاورت کے بغیر نافذ کیے۔دوسری جانب کابل کی قیادت نے اپنی عوامی شبیہ بہتر بنانے کی کوششیں تیز کر دیں۔

خاص طور پر سراج الدین حقانی نے، جو کبھی ایف بی آئی کی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھے، اب خود کو ایک ریاستی رہنما کے طور پر پیش کرنے لگے۔ 2024 کے بعد انہوں نے مغربی میڈیا کو انٹرویوز دیے اور ٹی وی اور سوشل میڈیا جیسے ذرائع کو استعمال کیا تاکہ نوجوان افغانوں میں مقبولیت حاصل کی جا سکے۔ بی بی سی کے مطابق طالبان کے اندرونی اختلافات ستمبر 2025 میں فیصلہ کن موڑ پر پہنچے جب قندھار سے ملک بھر میں انٹرنیٹ اور فون سروس بند کرنے کا حکم جاری ہوا۔ہیبت اللہ اخوندزادہ انٹرنیٹ کو غیر اسلامی مواد کا ذریعہ سمجھتے ہیں، مگر کابل قیادت کے لیے یہ حکم ناقابلِ قبول تھا کیونکہ حکمرانی، تجارت اور اثر و رسوخ کا بڑا حصہ انٹرنیٹ پر منحصر ہے۔ عبدالغنی برادر نے اس سے قبل قندھار جا کر سپریم لیڈر کے قریبی حلقوں کو خبردار کیا تھا کہ انہیں حالات کی سنگینی سمجھنی چاہیے، مگر ان کی بات نظرانداز کر دی گئی۔ 29 ستمبر کو انٹرنیٹ سروس بند کی گئی، لیکن تین دن بعد انٹرنیٹ بحال کر دیا گیا جسے ماہرین طالبان کی تاریخ میں ایک غیر معمولی بغاوت قرار دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ بات قابلِ غور ہے کہ کابل گروپ نے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی جیسے معاملات پر کبھی کھل کر حکم عدولی نہیں کی مگر انٹرنیٹ بندش نے ان کے مفادات، مراعات اور مالی ذرائع کو براہِ راست خطرے میں ڈال دیا جس پر وہ خاموش نہ رہ سکے۔بی بی کا کہنا ہے کہ 2026 کے آغاز تک صورتحال بظاہر قابو میں ہے، مگر تنا برقرار ہے۔ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ کابل کے وزرا کو سزا دی جائے گی، تاہم اطلاعات کے مطابق ہیبت اللہ اخوندزادہ نے ممکنہ تقسیم کے خوف سے کسی سخت اقدام سے گریز کیا۔ سرکاری ترجمان اختلافات کو محض رائے کے فرق یا خاندانی نوعیت کے معاملات قرار دیتے ہیں، مگر حقیقت میں نظریاتی جنگ اب خطابات اور بیانات کے ذریعے جاری ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم نے ماہرین سے ریلویز کیلیے عملی اقدامات کا روڈ میپ مانگ لیا وزیراعظم نے ماہرین سے ریلویز کیلیے عملی اقدامات کا روڈ میپ مانگ لیا پاکستان میں ادویات اور طبی آلات کی برآمدات میں اضافہ،ڈریپ ایئرپورٹس سے ڈی پورٹ ہونے والے 4 ہزار افراد کی انکوائریز مکمل نواز شریف نے سٹیٹ لانج علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا افتتاح کردیا سی ڈی اے کا بحریہ ٹائون کو نوٹس، بحریہ پیراڈئز کمرشل اپارٹمنٹس پراجیکٹ ختم کرنے کا حکم،دستاویزات سب نیوز پر سوسائیٹز کی جانب سے پبلک بلڈنگز ایریا لیز پر دینے پر پابندی عائد،سی ڈی اے کا نوٹس جاری،تفصیلات سب نیوز پر TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا

متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔ 

ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا