ریلوے پٹرول پمپ کی اونے پونے نیلامی، سینٹ کمیٹی میں گرما گرم بحث
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) سینٹ کی قائمہ کمیٹی میں ریلوے کا پٹرول پمپ سستے داموں نیلام کئے جانے پر گرماگرم بحث ہوئی، حکومتی سینیٹر ناصر بٹ کے ریلوے افسران سے سخت سوالات کیئے جبکہ وزیر ریلوے نے اپنی پارٹی کے سینیٹر کو تحمل مزاجی کا مشورہ دیا ۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر ناصر بٹ نے ریلوے افسران سے پوچھ گچھ کی کہ بھلوال میں ریلوے کا پیٹرول پمپ سستے داموں نیلام کیوں دیا گیا ۔ ریلوے حکام نے بتایا لیز کو منسوخ کروا دیا گیا ہے ۔ اس پٹرول پمپ کی دوبارہ نیلامی کی جائے گی ۔ ناصر بٹ نے کہا شفاف انداز میں پٹرول پمپ کی نیلامی ہوتی تو کمیٹی نشاندہی نہ کرتی ۔ ریلوے حکام اپنی غلطی تسلیم کیوں نہیں کرتے ؟
اس پر وزیر ریلوے کا کہنا تھا کسی کی جرات نہیں کہ ایک ٹک شاپ بھی خلاف ضابطہ حاصل کر لے ۔ حنیف عباسی نے ناصر بٹ سے کہا ریلوے افسران سے آرام اور پیار سے بات کریں ۔
کمیٹی کو گوادر بندرگاہ سے ریل رابطے ، گوادر کوئٹہ ریلوے لائن کی تعمیر اور کراچی میں ریلوے کی اربوں روپے کی اراضی پر ناجائز قبضے کے متعلق بریفنگ دی گئی ۔
وفاقی وزیر ریلوے کا کہنا تھا اس منصوبے کیلئے فنانس پر کام ہو چکا ، اس ٹریک سے پاکستان میں خوشحالی آئے گی ۔ ایم ایل ون کے سکھر سیکشن پر معاہدے کے لئے ایشیائی ترقیاتی بینک کی ٹیم تئیس جنوری کو پاکستان آ رہی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔