پاکستان کا چین کے ساتھ تعلق ہرحال میں غیرمتزلزل رہے گا، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
پاکستان کا چین کے ساتھ تعلق ہرحال میں غیرمتزلزل رہے گا، وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 15 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز )وزیراعظم شہباز شریف نے چین کی کمونسٹ پارٹی کے بین الاقوامی شعبے کی نائب وزیر سن ہائی یان سے ملاقات میں کہا کہ پاکستان کا چین کے ساتھ تعلق ہر حال میں غیرمتزلزل رہے گا اور پاکستان ایک چین پالیسی پر اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف سے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے بین الاقوامی شعبے کی نائب وزیر سن ہائی یان نے وزیراعظم ہاس میں ملاقات کی اور اس دوران وزیراعظم نے چینی مہمان اور ان کے وفد کو پاکستان میں خوش آمدید کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ نہایت اہم موقع پر ہورہا ہے کیونکہ پاکستان اور چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کا آغاز پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے کامیاب دور بیجنگ سے ہوا، جس کے بعد وزیر داخلہ نے شنگھائی کا دورہ کیا جبکہ آئندہ دنوں میں اسپیکر قومی اسمبلی کا دور چین بھی توقع ہے۔
وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ اور چینی قیادت کے لیے نیک تمناں کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان اور چین کے درمیان فولاد کی طرح مضبوط اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کی توثیق کی اور کہا کہ پاکستان کا چین کے ساتھ تعلق ہر حال میں غیر متزلزل رہے گا اور پاکستان ایک چین پالیسی پر اپنے غیر متزلزل عزم پر قائم ہے۔اقتصادی تعاون پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے چین کی جانب سے پاکستان کے لیے فراخ دلانہ معاونت، بالخصوص پاک-چین اقتصادی راہداری کے تحت تعاون کو سراہا اور سی پیک کے اگلے مرحلے کے بروقت اور مثر نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کو اس سال پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت کا بھی اعادہ کیا اور کہا کہ یہ سال دونوں ممالک کے لیے خصوصی اہمیت اور ایک تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
چینی نائب وزیر سن ہائی یان نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ اپنے دیرینہ اور آزمودہ تعلقات کو تمام شعبوں میں مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے پاکستان میں اقتصادی اور سیاسی استحکام کے لیے وزیراعظم کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ چینی قوم پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر فخر محسوس کرتی ہے۔ سن ہائی یان نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ بہترین تعلقات قائم ہیں۔چینی نائب وزیر نے جماعتی سطح پر روابط کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا بین الجماعتی طریقہ کار کے ذریعے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم پر قائم ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرطالبان قیادت میں اندرونی تصادم: کابل بمقابلہ قندھار طاقت کی جنگ سامنے آگئی طالبان قیادت میں اندرونی تصادم: کابل بمقابلہ قندھار طاقت کی جنگ سامنے آگئی وزیراعظم نے ماہرین سے ریلویز کیلیے عملی اقدامات کا روڈ میپ مانگ لیا پاکستان میں ادویات اور طبی آلات کی برآمدات میں اضافہ،ڈریپ ایئرپورٹس سے ڈی پورٹ ہونے والے 4 ہزار افراد کی انکوائریز مکمل نواز شریف نے سٹیٹ لانج علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا افتتاح کردیا سی ڈی اے کا بحریہ ٹائون کو نوٹس، بحریہ پیراڈئز کمرشل اپارٹمنٹس پراجیکٹ ختم کرنے کا حکم،دستاویزات سب نیوز پرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان کا چین کے ساتھ تعلق رہے گا
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔