لاہور: وزیر داخلہ پنجاب نے واضح کیا ہے کہ پتنگ بازی پر پابندی برقرار ہے۔ جس کے باعث بسنت منانے کے شوقین افراد کی قبل از وقت تیاریاں دھری کی دھری رہ گئیں۔صوبائی محکمہ داخلہ نے پتنگ بازی پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے خلاف ورزی کرنے والوں اور پتنگ بازی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت جاری کر دی۔محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ پنجاب میں بسنت کی محدود اور محفوظ اجازت صرف 6 سے 8 فروری تک ہو گی۔ اس کے علاوہ کسی بھی دن پتنگ بازی غیر قانونی تصور کی جائے گی۔حکام کے مطابق مقررہ دنوں سے قبل یا بعد میں پتنگ بازی قانوناً جرم ہو گی۔ محکمہ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ پتنگ بازی اور پتنگ سازی پر مکمل پابندی برقرار رہے گی۔محکمہ داخلہ کے مطابق پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 5 سال تک قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ جبکہ پتنگ یا ڈور بنانے یا فروخت کرنے پر 7 سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں شہر میں بڑھتی ہوئی پتنگ بازی کے باعث قاتل ڈور سے کئی افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ جس کے پیش نظر سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ پابندی کا مقصد شہریوں کو گلے پر ڈور پھرنے کے باعث جاں بحق ہونے اور چھتوں سے گرنے کے واقعات سے محفوظ رکھنا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: محکمہ داخلہ پتنگ بازی

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل