بنارس میں مودی کی بلڈوزر کارروائی صدیوں پرانی تہذیبی وراثت مٹانے کی کوشش ہے، کانگریس
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
ملکارجن کھڑگے نے یہ بھی پوچھا کہ منی کرنیکا گھاٹ میں صدیوں پرانی مورتیاں، جو بلڈوزر کارروائی کا شکار ہوئیں، انہیں ملبے میں ڈالنے کے بجائے کسی میوزیم میں محفوظ کیوں نہیں کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر بنارس کے تاریخی منی کرنیکا گھاٹ میں توڑ پھوڑ اور بلڈوزر کارروائی کو لے کر شدید حملہ کیا ہے۔ ایکس پر جاری اپنے طویل بیان میں انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت نے خوبصورتی اور تجارتی ترقی کے نام پر صدیوں پرانی مذہبی، ثقافتی اور روحانی وراثت کو مسمار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام صرف تاریخی ڈھانچوں کو نقصان پہنچانے تک محدود نہیں بلکہ ملک کی تہذیبی شناخت پر بھی ضرب ہے۔ ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ منی کرنیکا گھاٹ، جس کا ذکر قدیم ادوار میں ملتا ہے اور جسے لوک ماتا اہلیابائی ہولکر نے دوبارہ آباد کروایا تھا، آج تزئین و آرائش کے نام پر ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پہلے کوریڈور کے نام پر چھوٹے بڑے مندروں اور دیوالیوں کو گرایا گیا اور اب قدیم گھاٹوں کی باری آ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی سوچ یہ ہے کہ ہر تاریخی وراثت کو مٹا کر اس پر اپنی نیم پلیٹ لگا دی جائے۔
کانگریس صدر نے سوال اٹھایا کہ کیا صفائی، مرمت اور خوبصورتی کے کام وراثت کو محفوظ رکھتے ہوئے نہیں ہو سکتے تھے۔ انہوں نے مثال دی کہ کس طرح پارلیمنٹ احاطے میں مہاتما گاندھی اور بھیم راؤ امبیڈکر سمیت ملک کی عظیم شخصیات کے مجسموں کو بغیر کسی مشورے کے ایک طرف منتقل کر دیا گیا۔ اسی طرح جلیانوالہ باغ میموریل میں تزئین کے نام پر آزادی کے متوالوں کی قربانیوں سے جڑی یادوں کو کمزور کیا گیا۔ ملکارجن کھڑگے نے یہ بھی پوچھا کہ منی کرنیکا گھاٹ میں صدیوں پرانی مورتیاں، جو بلڈوزر کارروائی کا شکار ہوئیں، انہیں ملبے میں ڈالنے کے بجائے کسی میوزیم میں محفوظ کیوں نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بنارس دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے جہاں روحانیت، ثقافت، تعلیم اور تاریخ کا ایسا سنگم ہے جو پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔
انہوں نے مودی حکومت پر الزام لگایا کہ اس سب کے پیچھے ایک بار پھر سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچانے کی نیت کارفرما ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے پانی، جنگل اور پہاڑ نجی مفادات کے حوالے کئے گئے اور اب ثقافتی وراثت کی باری آ گئی ہے۔ ملکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم کے اس دعوے کا حوالہ دیا کہ "ماں گنگا نے بلایا ہے" اور کہا کہ آج حکومت نے اسی ماں گنگا کو فراموش کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنارس کے گھاٹ اس شہر کی شناخت ہیں اور لاکھوں لوگ ہر سال "موکش" کی امید لے کر یہاں آتے ہیں، ایسے میں ان مقامات کو عوام کی پہنچ سے دور کرنا عوامی اعتماد سے کھلواڑ کے مترادف ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ملکارجن کھڑگے نے بلڈوزر کارروائی انہوں نے کہا کہ صدیوں پرانی کے نام پر
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔