ڈی سی دادو اورڈی ایچ اوکی لیڈی ہیلتھ ورکز کو ہراساں کرنے کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر))ڈی سی دادو اور ڈی ایچ او دادو کی جانب سے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ہراساں کیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سندھیانی تحریک کی مرکزی صدر عمرہ سموں، مرکزی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر ماروی سندھو، مرکزی رہنما سبھانی ڈاہری، بختاور ملاح اور صائمہ منگنھار نے اپنے مشترکہ پریس بیان میں کہا ہے کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز انتہائی کٹھن حالات میں گھر گھر جا کر اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔ سندھ سمیت پورے پاکستان میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔انہوں نے کہا کہ چند روز قبل دادو میں پولیو مہم کے دوران ایک اجلاس میں پولیو ورکرز نے پولیو کے قطرے پلانے کے دوران پیش آنے والے مسائل کی نشاندہی کی اور سیکیورٹی کا مطالبہ کیا۔ مگر ان ورکرز کے جائز مطالبات پر توجہ دینے کے بجائے جاگیرداروں کی خوشنودی حاصل کرنے والی بیوروکریسی نے سیکیورٹی مانگنے والی پولیو ورکرز کو ہراساں کیا اور ڈیوٹی سے ہٹا دیا، جو پولیو ورکرز کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کی نااہلی کے باعث گزشتہ سال جیکب آباد میں ایک پولیو ورکر کے ساتھ جنسی زیادتی کا واقعہ پیش آیا، جبکہ سندھ میں پولیو ورکرز کے اغوا اور قتل کے واقعات بھی رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود پولیو ورکرز کو سیکیورٹی فراہم نہ کرنا سندھ حکومت کی عورت دشمنی کی انتہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام نے جاگیردار نواز پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے کہ سندھ حکومت خواتین کو تحفظ دینے کے بجائے انہیں معاشی طور پر ہراساں کر رہی ہے۔ سندھ کی خواتین کہیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پولیو ورکرز لیڈی ہیلتھ سندھ حکومت
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔