data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260116-01-12

 

راولپنڈی(آن لائن)انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت نے تحریک انصاف کے 26 نومبر کے احتجاج پر تھانہ صادق آباد میں درج مقدمہ میں نامزد سابق چیئرمین کی ہمشیرہ علیمہ خانم کی ایک روزہ حاضری استثنا کی درخواست منظور کرلی ہے جبکہ سابق رکن

صوبائی اسمبلی شہر یار ریاض کے بھائی و مقدمہ کے شریک ملزم عاطف ریاض کے وکیل کی عدم حاضری پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا ہے۔ عدالت نے استغاثہ کے گواہان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 19 جنوری تک ملتوی کردی علیمہ خانم سمیت 11 ملزمان کے خلاف گزشتہ روز سماعت کے موقع پر علیمہ خانم عدالت میں پیش نہ ہوئیں جس پر علیمہ خان کی جانب سے حاضری سے استثنا کی درخواست دائر کی گئی عدالت نے علیمہ خان کی حاضری سے استثنا کی درخواست منظور کرلی جبکہ مقدمے میں نامزد ملزم عاطف ریاض کے وکیل جرح کیلیے عدالت پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت نے عاطف ریاض کے وکیل پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا۔ عدالت نے استغاثہ کے مزید گواہان کو 19 جنوری کو طلب کرلیا ۔یاد رہے کہ اس مقدمے میں کل 7 گواہان پر جرح مکمل ہوچکی ہے

خبر ایجنسی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: استثنا کی درخواست علیمہ خانم عدالت نے ریاض کے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • اسپاٹیفائی کا عاطف اسلم کو خراج تحسین، گلوکار کی عالمی مقبولیت کا معترف
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن