26 نومبر کا احتجاج، علیمہ خان کے وکیل کی 6 گواہوںپر جرح مکمل
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
راولپنڈی (جنرل رپورٹر) انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ کے روبرو تحریک انصاف کے 26 نومبر کے احتجاج پر تھانہ صادق آباد کے مقدمہ میں ملوث سابق چیئرمین کی ہمشیرہ علیمہ خانم کے وکیل نے مزید 6 گواہوں پر جرح مکمل کر لی گئی۔ گزشتہ روز سماعت کے موقع پر علیمہ خانم اپنے وکیل فیصل ملک کے ہمراہ عدالت پیش ہوئی جبکہ سپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ بھی ٹیم کے ہمراہ موجود تھے، اس موقع علیمہ خانم کے وکیل نے استغاثہ کے اے ایس آئی ظہیر، کانسٹیبل بابر اور اے ایس آئی کاظم رضا، اسسٹنٹ آئی ٹی پولیس طارق، سب انسپکٹر اقبال اور ڈی ایف سی مرسلین پر مشتمل 6 گواہوں پر جرح مکمل کر لی۔ سماعت کے دوران علیمہ خانم کا وڈیو بیان بھی سکرین پر چلایا گیا، پراسیکیوشن کی مداخلت پر ملزمہ کے وکیل نے جرح چھوڑ کر جانے کا کہا جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ جرح نہیں کرنا چاہتے تو ہم آرڈر میں یہی لکھ دیتے ہیں۔ عدالت نے ہدایت کی کہ وکیل صفائی گواہوں سے غیر متعلقہ سوال نہ پوچھیں تاہم گواہوں پر جرح مکمل ہونے پر عدالت نے مزید گواہوں کو طلب کرتے ہوئے سماعت آج جمعرات تک ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: علیمہ خانم کے وکیل
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔