data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور/اسلام آباد(نمائندگان جسارت) پنجاب کے بلدیاتی قانون پر4روزہ عوامی ریفرنڈم کا جمعرات کو آغاز ہوگیا ،پہلے روز مردو خواتین نے بھرپور انداز میں رائے کا اظہار کیا ، نتائج کی روشنی میں پنجاب اسمبلی کا گھیراؤ کیا جائے گا، کالے قانون کی واپسی تک گھیراؤ جاری رہے گا۔جماعت اسلامی کے زیراہتمام ریفرنڈم کے لیے مرکز اور صوبے کے تمام اضلاع میں آزاد ریفرنڈم کمیشن تشکیل دے کر احمد بلال محبوب کو چیف الیکشن کمیشن مقرر کیا گیا۔ آزادانہ رائے دہی کے  لیے چوکوں ، چوراہوں ، گلیوں ، مارکیٹوں، تعلیمی اداروں اور دیگر عوامی مقامات پر کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ لاہور میں 14 سو کیمپ جبکہ باقی اضلاع میں بھی ہزاروں کیمپ قائم ہیں۔ ریفرنڈم کے پہلے روز بھرپور گہما گہمی رہی اور مردو خواتین کی بڑی تعداد نے رائے کا اظہار کیا۔ ٹاؤن شپ لاہور میں پولنگ کیمپ کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب بیدار ہوگیا ہے، مؤثر بلدیاتی نظام کے مطالبے کی لہر پورے ملک میں پھیلے گی۔ امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ پنجاب کا کالا قانون جو جمہوریت اور عوام کی توہین ہے کو واپس لیا جائے اور بلدیاتی انتخاب کی تاریخ کا اعلان کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام گزشتہ 10 برس سے نچلی سطح پر حق حکمرانی سے محروم ہیں، بلدیاتی قانون میں باربار تبدیلی کی گئی ، اسلام آباد میں بلدیاتی قانون 5 مرتبہ تبدیل کیا گیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ صوبائی حکومتیں اختیارات پر قابض ہیں، پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں بھی بلدیاتی نظام نہ ہونے کے برابر ہے۔ حکمران خاندان نہیں چاہتے کہ عوام بااختیار ہو، راجاؤں اور رانیوں کی طرح طاقت اپنے ہاتھ میں رکھنا اور خوشامدیوں میں گھرے رہنا ان کا وتیرہ ہے، حکمران خاندان اپنی پارٹیوں میں سیاسی کارکن کو بھی اختیار نہیں دیتے، یہ عوام سے خوف زدہ ہیں ، جماعت اسلامی خاندانوں کی اجارہ داری کو چیلنج کررہی ہے، ہم عوام کے حقوق کے لیے میدان عمل میں ہیں اور عالمی سطح پر بھی امت اور دکھی انسانیت کے حق میں بھرپور آواز بلند کررہے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ پنجاب کے بلدیاتی قانون میں غیر جماعتی انتخابات کی بات کی گئی ہے ، جو آئین و جمہوریت سے انحراف ہے ، اس قانون میں یونین کونسل کا چیئرمین بھی براہ راست ووٹ سے منتخب نہیں ہوگا ، اسے ایک ماہ کے اندر کسی سیاسی پارٹی میں شامل ہونا ہوگا، ایسا محض اس لیے کیا جارہا ہے تاکہ حکمران طبقہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی طرز پر منتخب نمائندوں کی خریدوفروخت کے عمل کو نچلی سطح تک بھی لے جائے۔ معاشرے میں بلدیاتی حکومتیں اور طلبہ یونین جمہوریت کی نرسری تصور کی جاتی ہیں ، پاکستان میں دونوں پر پابندی ہے، اس کالے قانون کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے، جمہوریت کی مضبوطی کے لیے جدوجہد بھرپور طریقے سے جاری رہے گی۔امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاالدین انصاری، سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی پاکستان شکیل ترابی ، سیکرٹری جنرل لاہور اظہر بلال ، نائب امیر لاہور خالد بٹ، امیر ضلع مرزا محمد رشید ، سلمان ایوب اور دیگر رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔ دریں اثنانائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ اور امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم نے کچہری چوک گجرات میں جبکہ سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پنجاب اقبال خان نے اٹک میں ریفر نڈم کے کیمپ کا افتتاح کیا اور مختلف شہروں اور اضلاع کا دورہ بھی کیا۔اس موقع پر گفتگو کر تے ہو ئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ پنجاب کا بلدیاتی قانون غیر جمہوری اور آئین سے متصادم ہے،پہلے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں انسانوں کی منڈی لگتی تھی اب غیر جماعتی بلدیاتی انتخابات کے ذریعے حکمران خاندان یہ منڈی نچلی سطح تک لے کر جانا چاہتے ہیں،موجودہ حکومت نے بلدیاتی اداروں کو بیورو کریسی کے تابع بنا کر عوامی فیصلہ سازی کا حق چھین لیا ہے، جماعت اسلامی اس قانون کے خلاف بھرپور مزاحمت جاری رکھے گی اورحکومت کو اسے واپس لینے پرمجبورکردیں گے، اس قانون کے ذریعے انتظامی، مالیاتی اور فیصلہ کن اختیارات منتخب نمائندوں سے چھین کر افسر شاہی کو دے دیے گئے ہیں، جس کی آئین میں کوئی گنجائش موجود نہیں۔ سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق، ڈپٹی سیکرٹریز ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، ڈاکٹر زبیدہ جبیں اور ڈپٹی سیکرٹری و ڈائریکٹر میڈیا سیل ثمینہ سعید نے مرکزی خواتین منصورہ میں قائم ریفرنڈم کیمپ کا دورہ کیا اور ووٹ پول کر کے اس عوامی مہم میں عملی شرکت کی۔میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کا بااختیار مقامی حکومتیں قائم کرنے سے انکار دراصل عوام کو ان کے بنیادی جمہوری حق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔ نچلی سطح پر اختیارات منتقل کیے بغیر عوامی مسائل کا حل ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت 2015ء کے بعد سے بلدیاتی انتخابات کرانے میں مسلسل ناکام رہی ہے، جو کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 140-اے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025ء ایک کالا قانون ہے، جس کے ذریعے اختیارات عوامی نمائندوں کے بجائے بیوروکریسی کو منتقل کیے جا رہے ہیں، جو جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہے۔اس موقع پر سوشل میڈیا کی نگراں خالدہ شہزاد، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات شہناز عاصمہ، رفعت پراچہ ،سیکرٹری اطلاعات وسطی پنجاب صفیہ ناصر، نائب ناظمہ ضلع لاہور شازیہ عبدالقادر اور ضلع غربی سے ثمینہ باجوہ بھی موجود تھیں۔

 

 

نمائندہ جسارت.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی پاکستان امیر جماعت اسلامی بلدیاتی قانون کہ پنجاب نچلی سطح

پڑھیں:

لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا

لاہور:   بلدیاتی الیکشن کے لیے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی. لاہور میں مجموعی طور پر 433 یونین کونسلز بنائی گئی ہیں۔ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر پنجاب نے لاہورکی یونین کونسل کی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کردی.فہرست کےمطابق لاہور کو نو ٹاؤن میں تقسیم کیا گیا جس میں راوی ٹاؤن 52، شالیمار میں 72، واہگہ ٹاؤن میں 25 یونین کونسلز قائم کی گئی ہیں۔ماڈل ٹاؤن میں 77، نشتر ٹاؤن میں 40، صدر کینٹ میں 29 یونین کونسل بنائی گئیں، رائے ونڈ سٹی میں 32، لاہور سٹی میں 69 اور علامہ اقبال ٹاؤن میں 37 یونینز بنائی گئیں۔شہری 23 جون تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائرکرسکتے ہیں. 24 جولائی تک اعتراضات پر فیصلہ سنایا جائےگا. تمام حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 10اگست 2026 کو جاری ہوگی۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی