عرب ممالک کی سفارتی کوششیں، ڈونلڈٹرمپ ایران پر حملہ نہ کرنے پر رضا مند
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
سعودی عرب، قطر،عمان نے حملہ رکوانے کیلئے آخری لمحات میں ٹرمپ کو راضی کرلیا
لوگوں کو پھانسی کی سزائیں دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ایرانی وزیر خارجہ کی گفتگو
فرانسیسی خبر ایجنسی کے دعویٰ کیا ہے کہ عرب ممالک نے ٹرمپ کو ایران پر حملہ نہ کرنے پر آمادہ کرلیا ہے۔فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق سعودی حکام نے بتایا کہ سعودی عرب، قطر اور عمان نے ممکنہ حملہ رکوانے کیلئے آخری لمحات میں بھرپور سفارتی کوششیں کیں جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو ایک موقع پر دینے پر رضا مند ہوگئے۔قبل ازیں ایرانی وزیر خارجہ نے سعودی ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا تھا کہ علاقائی ممالک کے اندرونی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کی عالمی سطح پر مذمت ضروری ہے۔دوسری جانب ایران نے اپنی فضائی حدود بند کرنے کے بعد کچھ دیر کے لیے جزوی طور پر
بحال بھی کی ہیں، ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران میں امن و امان بحال ہو چکا ہے، لوگوں کو پھانسی کی سزائیں دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، انہوں نے واضح کیا ہے کہ مظاہرین کو سخت سزائیں دینے کا الزام بے بنیاد مغربی پراپیگنڈا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔