Jasarat News:
2026-07-24@01:54:41 GMT

نیشنل کمیٹی ڈائیلاگ اور آج کا نوجوان

اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260116-03-4
ماشاء اللہ حالیہ نیشنل کمیٹی ڈائیلاگ کے چند اہم راہنمائوں و صحافیوں کی گفتگو اتفاقیہ طور پر چند نوجوانوں کے ہمراہ اک بیٹھک میں سننے کا موقع ملا۔ تمام مقررین نے بہت عمدہ گفتگو کی، بڑی دانش مندانہ تقاریر تھیں، ہر مقرر کو سیاست کی فکر ستائے دے رہی تھی۔ جماعت سے وابستگی کی وجہ سے مجھے جناب لیاقت بلوچ کی گفتگو ہی نے سب سے زیادہ متاثر کرنا تھا اور الحمدللہ کیا بھی۔

ان کی گفتگو اس طرح ہی تھی جیسے گھر کے ایک بڑے بزرگ کی ہوتی ہے۔ جو ہر ایک پہلو کا خیال رکھتے ہوئے گھر کے اتھرے پتر کو کچھ کہے بغیر بہت کچھ کہہ جاتا ہے مگر سمجھاتا تابعدار افراد کو ہی ہے کہ آپ مان جائو مزید فرما بردار بن جائو تاکہ گھر کا شیرازہ بکھر نہ جائے۔ بوڑھے باپ کی پریشانیوں میں اضافہ کرنے سے باز آ جائو۔ حالانکہ ان فرما برداروں کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے اسکول دفاتر یا کسی بھی جگہ حاضری کی افادیت وقت کی پابندی کے بھاشن صرف انہیں ہی سننے پڑتے ہیں جن کو ان کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جو ہمیشہ بروقت و باقاعدہ ہوتے ہیں۔

البتہ جو غیر حاضر ہوتے ہیں یا لیٹ ہوتے ہیں یعنی جن کو ان مفید لیکچرز، گفتگو و تقاریر و تنبیہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جن کے لیے ذمے داران و بزرگ دانشور گلے پھاڑ پھاڑ کر نہ صرف لمبی چوڑی تمہیدیں باندھ کر گفتگو کر رہے ہوتے ہیں۔ بلکہ ڈانٹ ڈپٹ اور سخت سزائوں کا الارم بھی بجا رہے ہوتے ہیں۔ وہ تو اس دوران بھی غیر حاضر ہی ہوتے ہیں۔

اس پر اک سیانے کا کیا خوبصورت تبصرہ ہے کہ دراصل جو ڈرا سہما ہو اسے ہی مزید ڈرایا جاتا ہے تا کہ وہ مزید فرمانبردار رہے۔ جو بچہ گھر اجاڑ رہا ہوتا ہے، نافرمان ہوتا ہے، منہ پھٹ ہوتا ہے۔ اس سے سب دانشور و بزرگ بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں برسرعام ان کی بزرگی و دانشمندی کو بھی داغدار نہ کر جائے۔ بہرحال ملک کے ان بڑوں، بزرگوں، دانشوروں کی اس دانش مندانہ گفتگو کو آج کا یہ نوجوان کس طرح لے رہا تھا ان کے تبصرے من و عن ملاحظہ فرمائیں۔

یہ سب سیاسی ٹھگ ہیں۔ یہ لوگ اس وقت کہاں تھے، جب رجیم چینج ہو رہا تھا۔

یہ لوگ اس وقت کہاں تھے جب آئینی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے بروقت الیکشن نہ ہوئے۔ جب ہمارے ووٹوں پر ڈاکا مارا گیا۔ سیاست سیاست کی رٹ لگا رہے ہیں۔ ان کی سیاست سے ہم ایسے ہی اچھے ہیں۔ ان کو اگر سیاست کی اتنی ہی فکر ہے تو ان کا واحد ایجنڈا یہ ہونا چاہیے تھا کہ جن کو عوام نے چنا ہے ان کو اقتدار دیا جائے۔ جنہوں نے آئین توڑا ہے انہیں سزا دی جائے۔

1971 میں بھی عوام کی رائے کو نہ مانا گیا اب بھی عوام کی رائے کو پائوں تلے مسل دیا گیا۔ یہ کمپرومائزڈ لوگ ہیں، انہوں نے ملک کا بیڑا غرق کیا ہے۔ یہ کبھی عوام کا نہیں سوچتے۔ اتنے نوجوان بیروزگار ہیں انہوں نے ان کا کبھی سوچا ہے، کالجز یونیورسٹی کی طوفان کی طرح بڑھتی ہوئی فیسوں کا کبھی انہوں نے سوچا؟

صحت کارڈ بند ہوا انہوں نے سوچا؟ چالیس چالیس دفاتر سے ڈگریاں اٹیسٹ کروانے والے نوجوانوں کا کبھی انہوں نے سوچا۔ قرضے لے کر باہر جانے کے لیے ویزہ ٹکٹ سب کچھ حاصل کر لیں تو بھی آف لوڈ ہو جاتے ہیں کبھی انہوں نے سوچا؟ آج تک ڈومیسائل سے تو یہ ہماری جان چھڑا نہیں سکے یہ ہمارے لیے کیا کریں گے؟

کوئی کام رشوت دیے بغیر وطن عزیز میں ہوتا نہیں۔ عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والے اپنے آپ کو فرعون سمجھتے ہیں۔ عوام کے سہولت کار بننے کے بجائے ان کے آقا بنے بیٹھے ہیں۔ کبھی سوچا کسی نے۔

ان سیاست کے دانشمندوں کا واحد ایجنڈا تو صرف یہ ہونا چاہیے کہ اگر ہمارا ملک جمہوری ملک ہے، تو صاف شفاف الیکشن کا آڈٹ ہو اور جس کا ووٹ ہے اس کی حکومت ہو۔ لیکن یہ دانشور اسی وقت میدان میں آتے ہیں جب ان بڑوں کے بڑے پریشان ہوں۔

یہ سب گفتگو سن کر مجھے تو لگا کہ جہاں ہماری نسل کمپرو مائزڈ نسل ہے، وہاں موجودہ نسل مکمل طور پر نان کمپرو مائزڈ نسل ہے۔ اسے کمپرو مائزڈ بنانے کی جستجو بے کار ہے، یہ دو جمع دو چار کی بات مانے گی، اس کے اندر ہی اندر لاوہ پک رہا ہے، اس سے پہلے کہ یہ پھٹ پڑے بڑوں کو اپنی دانش کو پس پشت ڈال کر ان کو آگے بڑھنے کا راستہ دے دینا چاہیے، اسی میں وطن عزیز کی عافیت ہے اور بزرگی کا کچھ بھرم قائم رہ سکتا ہے۔

ناصر محمود گورایہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے سوچا ہوتے ہیں بھی ان

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار

آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔

یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔

شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف