Jasarat News:
2026-07-24@05:10:02 GMT

نیشنل کمیٹی ڈائیلاگ اور آج کا نوجوان

اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260116-03-4
ماشاء اللہ حالیہ نیشنل کمیٹی ڈائیلاگ کے چند اہم راہنمائوں و صحافیوں کی گفتگو اتفاقیہ طور پر چند نوجوانوں کے ہمراہ اک بیٹھک میں سننے کا موقع ملا۔ تمام مقررین نے بہت عمدہ گفتگو کی، بڑی دانش مندانہ تقاریر تھیں، ہر مقرر کو سیاست کی فکر ستائے دے رہی تھی۔ جماعت سے وابستگی کی وجہ سے مجھے جناب لیاقت بلوچ کی گفتگو ہی نے سب سے زیادہ متاثر کرنا تھا اور الحمدللہ کیا بھی۔

ان کی گفتگو اس طرح ہی تھی جیسے گھر کے ایک بڑے بزرگ کی ہوتی ہے۔ جو ہر ایک پہلو کا خیال رکھتے ہوئے گھر کے اتھرے پتر کو کچھ کہے بغیر بہت کچھ کہہ جاتا ہے مگر سمجھاتا تابعدار افراد کو ہی ہے کہ آپ مان جائو مزید فرما بردار بن جائو تاکہ گھر کا شیرازہ بکھر نہ جائے۔ بوڑھے باپ کی پریشانیوں میں اضافہ کرنے سے باز آ جائو۔ حالانکہ ان فرما برداروں کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے اسکول دفاتر یا کسی بھی جگہ حاضری کی افادیت وقت کی پابندی کے بھاشن صرف انہیں ہی سننے پڑتے ہیں جن کو ان کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جو ہمیشہ بروقت و باقاعدہ ہوتے ہیں۔

البتہ جو غیر حاضر ہوتے ہیں یا لیٹ ہوتے ہیں یعنی جن کو ان مفید لیکچرز، گفتگو و تقاریر و تنبیہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جن کے لیے ذمے داران و بزرگ دانشور گلے پھاڑ پھاڑ کر نہ صرف لمبی چوڑی تمہیدیں باندھ کر گفتگو کر رہے ہوتے ہیں۔ بلکہ ڈانٹ ڈپٹ اور سخت سزائوں کا الارم بھی بجا رہے ہوتے ہیں۔ وہ تو اس دوران بھی غیر حاضر ہی ہوتے ہیں۔

اس پر اک سیانے کا کیا خوبصورت تبصرہ ہے کہ دراصل جو ڈرا سہما ہو اسے ہی مزید ڈرایا جاتا ہے تا کہ وہ مزید فرمانبردار رہے۔ جو بچہ گھر اجاڑ رہا ہوتا ہے، نافرمان ہوتا ہے، منہ پھٹ ہوتا ہے۔ اس سے سب دانشور و بزرگ بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں برسرعام ان کی بزرگی و دانشمندی کو بھی داغدار نہ کر جائے۔ بہرحال ملک کے ان بڑوں، بزرگوں، دانشوروں کی اس دانش مندانہ گفتگو کو آج کا یہ نوجوان کس طرح لے رہا تھا ان کے تبصرے من و عن ملاحظہ فرمائیں۔

یہ سب سیاسی ٹھگ ہیں۔ یہ لوگ اس وقت کہاں تھے، جب رجیم چینج ہو رہا تھا۔

یہ لوگ اس وقت کہاں تھے جب آئینی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے بروقت الیکشن نہ ہوئے۔ جب ہمارے ووٹوں پر ڈاکا مارا گیا۔ سیاست سیاست کی رٹ لگا رہے ہیں۔ ان کی سیاست سے ہم ایسے ہی اچھے ہیں۔ ان کو اگر سیاست کی اتنی ہی فکر ہے تو ان کا واحد ایجنڈا یہ ہونا چاہیے تھا کہ جن کو عوام نے چنا ہے ان کو اقتدار دیا جائے۔ جنہوں نے آئین توڑا ہے انہیں سزا دی جائے۔

1971 میں بھی عوام کی رائے کو نہ مانا گیا اب بھی عوام کی رائے کو پائوں تلے مسل دیا گیا۔ یہ کمپرومائزڈ لوگ ہیں، انہوں نے ملک کا بیڑا غرق کیا ہے۔ یہ کبھی عوام کا نہیں سوچتے۔ اتنے نوجوان بیروزگار ہیں انہوں نے ان کا کبھی سوچا ہے، کالجز یونیورسٹی کی طوفان کی طرح بڑھتی ہوئی فیسوں کا کبھی انہوں نے سوچا؟

صحت کارڈ بند ہوا انہوں نے سوچا؟ چالیس چالیس دفاتر سے ڈگریاں اٹیسٹ کروانے والے نوجوانوں کا کبھی انہوں نے سوچا۔ قرضے لے کر باہر جانے کے لیے ویزہ ٹکٹ سب کچھ حاصل کر لیں تو بھی آف لوڈ ہو جاتے ہیں کبھی انہوں نے سوچا؟ آج تک ڈومیسائل سے تو یہ ہماری جان چھڑا نہیں سکے یہ ہمارے لیے کیا کریں گے؟

کوئی کام رشوت دیے بغیر وطن عزیز میں ہوتا نہیں۔ عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والے اپنے آپ کو فرعون سمجھتے ہیں۔ عوام کے سہولت کار بننے کے بجائے ان کے آقا بنے بیٹھے ہیں۔ کبھی سوچا کسی نے۔

ان سیاست کے دانشمندوں کا واحد ایجنڈا تو صرف یہ ہونا چاہیے کہ اگر ہمارا ملک جمہوری ملک ہے، تو صاف شفاف الیکشن کا آڈٹ ہو اور جس کا ووٹ ہے اس کی حکومت ہو۔ لیکن یہ دانشور اسی وقت میدان میں آتے ہیں جب ان بڑوں کے بڑے پریشان ہوں۔

یہ سب گفتگو سن کر مجھے تو لگا کہ جہاں ہماری نسل کمپرو مائزڈ نسل ہے، وہاں موجودہ نسل مکمل طور پر نان کمپرو مائزڈ نسل ہے۔ اسے کمپرو مائزڈ بنانے کی جستجو بے کار ہے، یہ دو جمع دو چار کی بات مانے گی، اس کے اندر ہی اندر لاوہ پک رہا ہے، اس سے پہلے کہ یہ پھٹ پڑے بڑوں کو اپنی دانش کو پس پشت ڈال کر ان کو آگے بڑھنے کا راستہ دے دینا چاہیے، اسی میں وطن عزیز کی عافیت ہے اور بزرگی کا کچھ بھرم قائم رہ سکتا ہے۔

ناصر محمود گورایہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے سوچا ہوتے ہیں بھی ان

پڑھیں:

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں میڈیا انڈسٹری، پیکا قوانین اور صحافیوں کے فلاحی امور سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سینیٹر عبدالشکور، سینیٹر سید وقار مہدی، سینیٹر پرویز رشید اور سینیٹر جان محمد نے شرکت کی۔

کمیٹی کو این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

کمیٹی نے فلم "بلھا" میں حضرت بابا بلھ شاہ کے امن کے پیغام کی مبینہ غلط ترجمانی کا بھی نوٹس لیا، اور مشاہدہ کیا کہ فلم نے معروف صوفی بزرگ کی پرامن تعلیمات کو مرکزی کردار کے ذریعے تشدد اور بندوقوں سے جوڑ کر مسخ کیا ہے۔ اراکین نے اس بنیاد پر سوال اٹھایا کہ سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز نے اس فلم کی منظوری کس طرح دی۔ اگرچہ سنسر بورڈ کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ فلم پنجاب اور سندھ کے سنسر بورڈز سے بھی منظور شدہ ہے، تاہم کمیٹی نے اس توجیہہ کو مسترد کر دیا۔ اراکین نے سنسر بورڈ کے ارکان کی تقرری کے معیار پر بھی سوال اٹھایا اور وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس طرح کی تقرریوں کے لیے ایک شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار وضع کرے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

تفصیلی غوروخوض کے بعد، کمیٹی نے سفارش کی کہ فلم "بلھا" کے پروڈیوسرز کو کہا جائے کہ وہ اس کا نام تبدیل کریں اور وہ قابلِ اعتراض مکالمہ ہٹائیں جس میں مرکزی کردار نے خود کا موازنہ بابا بلھ شاہ سے کیا ہے، بصورت دیگر فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کی جائے جس میں یوٹیوب سے اس کا ممکنہ اخراج بھی شامل ہو۔

کمیٹی کو وفاقی حکومت کے ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کی طرف سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے فلیٹس اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ میڈیا ورکرز کے کوٹے کے تحت الاٹمنٹ کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ صحافیوں کے کوٹے سے متعلق مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔ اس طویل تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، کمیٹی نے اپنی سفارشات پر عمل درآمد کی نگرانی اور مسئلے کے حل کو آسان بنانے کے لیے سینیٹرز پرویز رشید، وقار مہدی اور عبدالشکور پر مشتمل ایک مانیٹرنگ سب کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔

سینیٹر سرمد علی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ معاملے کا جائزہ لینے، موجودہ پالیسی پر نظرثانی کرنے اور ایک ماہ کے اندر الاٹمنٹس کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک ہفتے کے اندر صحافیوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ کمیٹی نے مستقبل کی ہاؤسنگ سکیموں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے کوٹے میں اضافے کی بھی سفارش کی اور ایک مخصوص ہاؤسنگ لون سکیم متعارف کرانے یا موجودہ وفاقی حکومت کے ہاؤسنگ فنانس کے اقدامات کے تحت صحافیوں کو ترجیح دینے کی تجویز دی۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) نے بھی کمیٹی کو علاقائی اخبارات کے اشتہاری کوٹے کے بارے میں بریفنگ دی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ پالیسی کے تحت سرکاری اشتہارات کا 25 فیصد حصہ علاقائی اخبارات کے لیے مخصوص ہے۔ تاہم، اراکین نے اس پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے کی شکایات کا نوٹس لیا، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان سے۔ قائم مقام چیئرمین نے پی آئی ڈی کو ہدایت کی کہ وہ 25 فیصد کوٹے کی سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے، جس میں عوامی سطح پر معلومات کی ترسیل میں ان کے اہم کردار کے اعتراف میں لسانی اخبارات بھی شامل ہوں۔

کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کو درپیش مسائل پر بھی مزید تبادلہ خیال کیا۔ یہ بتایا گیا کہ 353 کمیوٹیشن کیسز تحال زیر التوا ہیں اور ریڈیو پاکستان وفاقی حکومت کے گران্ট-اِن-ایڈ کے ذریعے چل رہا ہے۔ حکام نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم پہلے ہی ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی اور اے پی پی سے متعلقہ بقایا مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں۔ قائم مقام چیئرمین نے ہدایت کی کہ ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے مطالبات بھی وزیراعظم کی کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں اور اس معاملے کے جلد از جلد حل کا مطالبہ کیا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف