امریکی ٹیرف کا دباؤ، بھارت نے لڑکھڑاتی معیشت کو بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت تجارتی ٹیرف کے بعد بھارت میں معاشی اصلاحات کی نئی بحث نے جنم لیا ہے۔ اگرچہ نئی دہلی نے حالیہ مہینوں میں معیشت کو کچھ حد تک آزاد کرنے کے اقدامات کیے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یہ اصلاحات محدود نوعیت کی ہیں اور بھارت کی ضرورت ایک جامع اور جرأت مندانہ معاشی تبدیلی کی ہے۔
امریکی اخبار کے تجزیہ نگار سدانند دھومے کے مطابق صدر ٹرمپ کے عائد کردہ ٹیرف اگرچہ ایک سخت اور بھونڈا ہتھیار ہیں، مگر انہی کی بدولت بھارت کو اپنی حد سے زیادہ ضابطہ زدہ معیشت میں اصلاحات پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی ٹیرف سے بھارتی برآمدات کو دھچکا، نئی دہلی کا ریلیف پیکج کا اعلان
گزشتہ برس اگست سے بھارت کی کئی برآمدات پر امریکا میں 50 فیصد تک ٹیرف عائد ہے، جو کسی بھی بڑی معیشت کے لیے غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔
امریکا جو اشیا اور خدمات کے شعبے میں بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اس کے ساتھ پیدا ہونے والے اس تنازع نے نئی دہلی میں معاشی لبرلائزیشن کی ایک نئی مگر محتاط کوشش کو جنم دیا ہے۔
حالیہ اقدامات میں دیوالیہ پن کے قوانین میں ترمیم، جی ایس ٹی کو کسی حد تک سادہ بنانا، بعض صنعتی شعبوں میں کوالٹی کنٹرول لائسنس کی شرط ختم کرنا اور لیبر قوانین کومحدود پیمانے پر نرم کرنا شامل ہے۔
دسمبر میں حکومت نے پہلی بار نجی اور غیر ملکی مشترکہ کمپنیوں کو نیوکلیئر پاور سیکٹر میں داخلے کی اجازت دی، جب کہ انشورنس کے شعبے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی حد 100 فیصد تک بڑھا دی گئی۔ بجلی کے شعبے میں نجی مقابلے کی اجازت دینے سے متعلق قانون بھی زیر غور ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کے ٹیرف سے بھارت میں بڑے پیمانے پر بیروزگاری کا خدشہ
تاہم تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات بنیادی اصلاحات کے بجائے جزوی بہتری کی مثالیں ہیں۔ 2020 میں زرعی شعبے میں مجوزہ اصلاحات کے مقابلے میں یہ تبدیلیاں کہیں کمزور ہیں، جنہیں شدید عوامی ردعمل کے باعث واپس لینا پڑا تھا۔
ماہرین کے مطابق بھارت میں مسئلہ یہ ہے کہ حکومت پالیسی بناتے وقت تنقید کو نظرانداز کرتی ہے اور صرف بحران کی صورت میں محدود اصلاحات کرتی ہے۔ جی ایس ٹی اور لیبر قوانین اس کی واضح مثالیں ہیں، جہاں اصلاحات ایک دہائی کی تاخیر سے کی گئیں اور وہ بھی ناکافی ثابت ہوئیں۔
تجزیہ میں زور دیا گیا ہے کہ بھارت کو حقیقی معاشی ترقی کے لیے بیوروکریسی کی گرفت کم کرنا، زمین کے حصول کو آسان بنانا، زرعی شعبے میں منڈی کی طاقتوں کو آزاد کرنا، ایندھن اور کھاد پر بھاری سبسڈیز کم کرنا اور خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کرنا ہوگی۔ محض جزوی ترامیم سے معیشت کو درپیش گہرے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی ٹیرف بھارت بھارتی معیشت سدانند دھومے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی ٹیرف بھارت بھارتی معیشت سدانند دھومے کے لیے
پڑھیں:
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافہ اور معیشت کی مجموعی ترقی کے لئے شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لئے صنعت وحرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی مصنوعات کی ملکی پیداور اضافے کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے کے لیے موٴثر پالیسی اقدامات حکومتی ترجیحات کا حصہ ہیں، صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات کا مقصد طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح ہونا چاہئے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو متبادل توانائی کے ذرائع سے پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام ہو رہا ہے، توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مختلف شعبوں میں شمولیت کے لئے تمام وزارتیں اور ماہرین کی بامعنی مشاورت کو یقینی بنائیں، موثر ترقیاتی پالیسیز کی تشکیل و نفاذ کے لیۓ تمام وزراتیں باہمی تعاون اور ہم آہنگی سے کام کریں، تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سی مختلف زیر غور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر پاور ڈیویژن سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، کے معاون خصوصی ہارون اختر اور ڈائریکٹر جنرل ایس آئی ایف سی میجر جنرل اسد الرحمن چیمہ اور متعلقہ اداروں کے عہدے داران نے شرکت کی۔
مزید :