امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت تجارتی ٹیرف کے بعد بھارت میں معاشی اصلاحات کی نئی بحث نے جنم لیا ہے۔ اگرچہ نئی دہلی نے حالیہ مہینوں میں معیشت کو کچھ حد تک آزاد کرنے کے اقدامات کیے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یہ اصلاحات محدود نوعیت کی ہیں اور بھارت کی ضرورت ایک جامع اور جرأت مندانہ معاشی تبدیلی کی ہے۔

امریکی اخبار کے تجزیہ نگار سدانند دھومے کے مطابق صدر ٹرمپ کے عائد کردہ ٹیرف اگرچہ ایک سخت اور بھونڈا ہتھیار ہیں، مگر انہی کی بدولت بھارت کو اپنی حد سے زیادہ ضابطہ زدہ معیشت میں اصلاحات پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی ٹیرف سے بھارتی برآمدات کو دھچکا، نئی دہلی کا ریلیف پیکج کا اعلان

گزشتہ برس اگست سے بھارت کی کئی برآمدات پر امریکا میں 50 فیصد تک ٹیرف عائد ہے، جو کسی بھی بڑی معیشت کے لیے غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔

امریکا جو اشیا اور خدمات کے شعبے میں بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اس کے ساتھ پیدا ہونے والے اس تنازع نے نئی دہلی میں معاشی لبرلائزیشن کی ایک نئی مگر محتاط کوشش کو جنم دیا ہے۔

 

حالیہ اقدامات میں دیوالیہ پن کے قوانین میں ترمیم، جی ایس ٹی کو کسی حد تک سادہ بنانا، بعض صنعتی شعبوں میں کوالٹی کنٹرول لائسنس کی شرط ختم کرنا اور لیبر قوانین کومحدود پیمانے پر نرم کرنا شامل ہے۔

دسمبر میں حکومت نے پہلی بار نجی اور غیر ملکی مشترکہ کمپنیوں کو نیوکلیئر پاور سیکٹر میں داخلے کی اجازت دی، جب کہ انشورنس کے شعبے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی حد 100 فیصد تک بڑھا دی گئی۔ بجلی کے شعبے میں نجی مقابلے کی اجازت دینے سے متعلق قانون بھی زیر غور ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کے ٹیرف سے بھارت میں بڑے پیمانے پر بیروزگاری کا خدشہ

تاہم تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات بنیادی اصلاحات کے بجائے جزوی بہتری کی مثالیں ہیں۔ 2020 میں زرعی شعبے میں مجوزہ اصلاحات کے مقابلے میں یہ تبدیلیاں کہیں کمزور ہیں، جنہیں شدید عوامی ردعمل کے باعث واپس لینا پڑا تھا۔

ماہرین کے مطابق بھارت میں مسئلہ یہ ہے کہ حکومت پالیسی بناتے وقت تنقید کو نظرانداز کرتی ہے اور صرف بحران کی صورت میں محدود اصلاحات کرتی ہے۔ جی ایس ٹی اور لیبر قوانین اس کی واضح مثالیں ہیں، جہاں اصلاحات ایک دہائی کی تاخیر سے کی گئیں اور وہ بھی ناکافی ثابت ہوئیں۔

تجزیہ میں زور دیا گیا ہے کہ بھارت کو حقیقی معاشی ترقی کے لیے بیوروکریسی کی گرفت کم کرنا، زمین کے حصول کو آسان بنانا، زرعی شعبے میں منڈی کی طاقتوں کو آزاد کرنا، ایندھن اور کھاد پر بھاری سبسڈیز کم کرنا اور خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کرنا ہوگی۔ محض جزوی ترامیم سے معیشت کو درپیش گہرے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی ٹیرف بھارت بھارتی معیشت سدانند دھومے.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی ٹیرف بھارت بھارتی معیشت سدانند دھومے کے لیے

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع

فائل فوٹو 

آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی، میرپور ڈویژن میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا عمل شروع کیا، آزاد کشمیر میں 5 جون سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔

آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کے باعث انٹرنیٹ سروس بند کی گئی تھی، چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے انٹرنیٹ بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع