سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزداراچانک منظر عام پر آ گئے
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اچانک منظر عام پر آ گئے ہیں۔ عثمان بزدار نے لاہور میں مرحوم سیاسی رہنما میاں منظور وٹو کی رہائش گاہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے مرحوم کے انتقال پر اہلِ خانہ سے تعزیت کی۔
اس موقع پر عثمان بزدار نے میاں منظور وٹو کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا بھی کی۔ تعزیتی ملاقات کے دوران انہوں نے مرحوم کی سیاسی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ میاں منظور وٹو نے ملک اور جمہوریت کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔
لاہور میں 187 ٹریفک حادثات؛ 217 افراد زخمی
ذرائع کے مطابق عثمان بزدار کی یہ آمد سیاسی حلقوں میں خاصی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے کیونکہ وہ کافی عرصے بعد عوامی سطح پر نظر آئے ہیں۔ تعزیتی ملاقات کے دوران دیگر سیاسی اور سماجی شخصیات بھی موجود تھیں، جبکہ اہلِ خانہ نے عثمان بزدار کی آمد اور تعزیت پر شکریہ ادا کیا۔ عثمان بزدار کی اچانک منظر عام پر آمد نے سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔