امریکا کی ایران کو دھمکیاں، مشرق وسطیٰ میں ایک اور جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں: چین
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
اقوام متحدہ میں چینی مندوب نے کہا ہے کہ امریکا ایران پر طاقت کے استعمال کی کوشش فوری ترک کرے۔
چینی مندوب نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کو مسلسل طاقت کے استعمال کی دھمکیاں دے رہا ہے جس سے مشرق وسطیٰ میں ایک اور جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین کسی بھی ملک کی سالمیت کے خلاف طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے، چین چاہتا ہے کہ مسائل کا حل اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کے مطابق ہو۔
چینی مندوب نے کہا کہ ایران خود مختار ملک ہے اور ایرانی عوام کو اپنے فیصلے کرنے میں آزادی ہونی چاہیے، ایران کو درپیش مسائل سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کو مدد کرنی چاہیے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ میں پاکستانی مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ ایران اور خطے کی صورتحال پر تشویش ہے اور طاقت کا استعمال صورتحال مزید سنگین کردے گا، سفارتکاری اپنائی جائے۔
علاوہ ازیں روسی مندوب نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی بیانات کسی بھی ملک کی سالمیت کے خلاف اور اندرونی معاملات میں مداخلت ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔